رباعیات: فراغ روہوی۔ کولکاتا، انڈیا
کب حلقۂ بازو سے بچا ہے کوئی
کب سایۂ گیسو سے بچا ہے کوئی
اک مجھ پہ ہی موقوف نہیں ہے صاحب
کب حسن کے جادو سے بچا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔
کوچہ مجھے معشوق کا کیا یاد آیا
دنیا کو جنوں پھر سے مرا یاد آیا
کس طرح بتائوں کہ میں فرزانوں میں
کچھ ایسا گھرا تھا کہ خدا یاد آیا
۔۔۔۔۔
میں عشق کئ چکر میں جو بدنام ہوا
اس طرح مرے حق میں بڑا کام ہوا
اک عمر سے گمنام تھا اس دنیا میں
اب جاکے زمانے میں مرا نام ہوا
۔۔۔۔۔۔
عاشق بھی ہوں، دیوانہ بھی، سودائی بھی
شہرت بھی ہوئی ہے مری، رسوائی بھی
اک عشق نے پہنچایا ہے کس منزل پر
میں خود ہی تماشا ہوں، تماشائی بھی
۔۔۔۔۔۔
خوشبو سے تری، جاں ہے معطر اب بھی
ہے کعبۂ دل تجھ سے منور اب بھی
کیا خوب کیا کام نظر نے تیری
ہے تیرا تسلّط مرے دل پر اب بھی

 

یہ رباعیات آپ کو کیسی لگیں؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟