قطعات : یعقوب تصور ۔ ابوظہبی، متحدہ عرب امارات
 عرش سے فرش زمیں تک کا سفر
عین فطرت تھافسانہ بن گیا
اپنی منزل تو تصور ؔ تھی یہی
دانۂ گندم بہانہ بن گیا
۔۔۔۔۔
حسن و خوبی میں نہیں ہیں آپ کم تو آج بھی
اور ہیں بے اعتنائی کے ستم تو آج بھی
ملتفت تو ہوں ذرا سا آپ اے جان وفا
آگ پانی میں لگا سکتے ہیں ہم تو آج بھی
۔۔۔۔۔۔
راز یہ ہی تو التفات کا ہے
چپقلش میں مزہ حیات کا ہے
روٹھ جانا، منانا، عہد وفا
یہ تو قصہ ہر ایک رات کا ہے
۔۔۔۔۔۔
مصائب جھیلنے سے میں نہیں ڈرتا محبت میں
جواں عزم مصمم ہے بدن میں جان باقی ہے
بہت کچھ کر چکا ہوں میں تصور زندگانی میں
بہت کچھ کر گزرنے کا ابھی امکان باقی ہے
۔۔۔۔۔۔
چاکِ دل آزردہ سینے نہیں دیتا وہ
جس کے لئے جیتا ہوں جینے نہیں دیتا وہ
تشنہ لبِ الفت کو اِک جام مئے الفت
ہنستے ہوئے دیتا ہے پینے نہیں دیتا وہ
۔۔۔۔۔
ہر ایک چیز یہاں کی اسیر فطرت ہے
اسی نظام پہ قائم ہے اعتبار سدا
اسی اصول پہ کاٹی ہے زندگی میں نے
کہ پھول پھول ہی رہتا ہے خار کار سدا

یہ قطعات آپ کو کیسے لگے ؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟