مدینے ہو کے آیا ہوں: احمد صفی ۔ کراچی، پاکستان
ابھی کچھ دن نہیں گزرے مدینے ہو کے آیا ہوں
یہ لب کہتے نہیں تھکتے مدینے ہو کے آیا ہوں

زمیں پر پاؤں ٹکتے ہیں، نہ دل ہی ہے کہیں لگتا
سکوں پاؤں بھلا کیسے، مدینے ہو کے آیا ہوں

میں آنکھیں بند کرتے ہی ہرے گنبد پہنچتا ہوں 
یہی احوال ہے جب سے مدینے ہو کے آیا ہوں

تہی دستِ عمل ٹہرا، عبادت میں بھی میں کورا
یقیں آتا نہیں کیسے مدینے ہو کے آیا ہوں

بمسجد نورِ حق دیکھا، بروضہ رحمتِ نبویٌ
یہ سب جلوے وہیں دیکھے، مدینے ہو کے آیا ہوں

مشامِ جاں معطر ہے، نظر ہے نور سے خیرہ 
کوئی آکر مجھے دیکھے مدینے ہو کے آیا ہوں

بصد سرشاری دل کرتا ہے چِلّاؤں میں رَہ چلتے
یہ بتلا دوں میں ہر اک سے، مدینے ہو کے آیا ہوں

وہیں رہ جاتا اچھا تھا، نہ جانے کیوں پلٹ آیا
یہی ہوں سوچتا جب سے مدینے ہو کے آیا ہوں

یہ نعت پاک آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟