نصاب تعلیم اور زمینی حقائق : خورشید احمد عون، ہری پور ، پاکستان

ایک عام آدمی کا کبھی گھی گھنا ہوتا ہے اور کبھی اُسے مٹھی بھر چنا نصیب ہوتا ہے۔ لیکن اس ملک کے پڑھے لکھے مچھندر کو ڈگریوں کے باوجودمٹھی بھر آٹا نصیب نہیں ہوتا اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اُسے روٹی حاصل کرنے کے لیے بہت دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ ہر مچھندر کے نصیب میں سستی روٹی اسکیم کے باجود روٹی کیوں نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نصاب تعلیم میں روٹی بنانے کے طریقے درج نہیں ہوتے۔ چنانچہ ایسی تعلیم ”جس سے گھر چلے نہ ملک چلے“ تبدیلی کی سزاوار ہے۔ مگر نصاب تعلیم کون تبدیل کرے؟
میرے ضمیر کے نزدیک تقسیم سے پہلے علامہ کی وفات المناک اور میری کاہلی شرمناک کی وجہ سے تعلیمی معیار اس سطح تک پہنچا ہے ۔ میں نے اپنے ضمیر کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے کئی دفعہ اُسے سمجھایا کہ دیکھو ضمیر بھائی ! ماہرین تعلیم کی نیّت کی طرح میری طبیعت بھی خراب رہتی ہے لہٰذا مجھے اس پیچیدہ کام سے دور ہی رکھو۔ مگر وہ میرے اس عذر کو بھی کاہلی سے ہی تعبیر کرتا ہے۔ جبکہ میرے بعض جاننے والے اس کاہلی کو میری خودداری سمجھتے ہیں۔ کتنی دفعہ ایسا ہواکہ میں سستی کے مارے صاحب کے آگے کو نہ جاسکا اور نام نہاد خوددار بن کر اُن سے داد و تحسین وصول کرتا رہا۔
ویسے اپنے نظام تعلیم اور تنخواہ سے غیر مطمئن ہو کر کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا تھا کہ شاید میں کوئی بہت بڑا ذہین فطین ماہر تعلیم ہوں۔ ایسا ماہر جسے روایتی تدریسی عمل سے بغاوت کی پاداش میں کئی بار مختلف اسکولوں سے نکالا جا چکا ہے ۔ اور ہر دوسرے مہینے تنخواہ کے ساتھ ملنے والا بیروزگاری کا پروانہ دراصل غیبی قوت کی طرف سے اشارہ ہے۔ جو اُسے اصل منصب سنبھالنے کے لیے اشتعال دلاتا ہے۔ اشتعال کی اس آنچ کو ہمہ وقت ہوا دینے کی ذمہ داری ضمیر نے لے رکھی ہے۔ میں کافی عرصہ اس خیال کو دماغ سے جھٹکتا رہا اور ضمیر کی اس ہوا کو خبطِ عظمت سمجھ کر خاموش بیٹھا رہا ۔ مگر میری خاموشی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔
ایک رات تین بجے میرے ضمیر اور کاہلی کے درمیان اتنا خوفناک تصادم ہوا کہ میں نے گھبرا کر ہیملٹ کی طرح یہ کہتے ہوئے نصاب تعلیم میں تبدیلی کا بیڑا اُٹھا لیا۔
The Time is out of joint ,O, Cursed spite
  That ever I was born to set it right   
اب میں باری باری مختلف مضامین کو لوں گا اور اُن میں تبدیلیوں کے لیے سفارشات پیش کروں گا۔
نصاب تعلیم اخلاقیات پر نہیں بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں ترتیب دینا چاہیے۔ جان ڈیوی کے فلسفے کے مطابق چونکہ اخلاقیات کے پہلے سے طے شدہ اور ناقابل تغیّر اصول موجود نہیں ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ اصول بدلتے رہتے ہیں چنانچہ خودداری ، راست بازی ، بہادری ، اصول پسندی جیسی پرانی اور پائمال قدروں کو یا تو ترک کر دینا چاہیے یا پھر ان میں ایسی تبدیلی لانی چاہیے جو عام ملازم یا افسر کی ترقی میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
مثال کے طور پر سچ کو ہی لے لیں موجودہ دور میں سچ کو بدتمیزی اور گستاخی کا نام دیا جائے۔ کوئی عام ملازم اگر کسی بڑے افسر یا کوئی چھوٹا آدمی کسی بڑے کو مکار جھوٹا، فریبی یا حرام خور کہے تو اُسے سزا دی جائے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ دروغِ مصلحت آمیز (ویسے انسان ہمیشہ اپنی مصلحت (بہتری) کے لیے جھوٹ بولتا ہے) خوشامد (جس سے لہجے میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے) اور لالچ (جس کا مفہوم ہے ” جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں “لیا جا سکتا ہے)۔
جیسی ضروری اقدار پر نئی اخلاقیات تشکیل د ے کر نصاب ترتیب دیا جائے۔ منافقت اورسازش کو سیاسی تدبر اور حکمت عملی جیسے نئے نام دے کر عبداللہ بن ابیّ اور کامیاب سیاستدان کو مثال بنا کر پیش کیا جائے۔
روحانی تربیت کا انتظام بھی نئے دور کے مطابق کیا جائے۔ عامل بننے کے گر سکھائے جائیں۔ کیونکہ یہ شعبہ اب باقاعدہ صنعت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس سے لاکھوں کا کاروبار وابستہ ہے۔ نصاب کا بڑا حصہ تعویذ گنڈوں اور عملیات پر مشتمل ہو۔ ویسے بچوں کی ذہنی وجذباتی عمر کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے بھی عملیات پر مشتمل نصاب ترتیب دیا ہے۔ ہم نے ایف۔اے کے طلبہ و طالبات کے لیے سالانہ امتحان میں کامیابی ، محبت میں ناکامی، روٹھا محبوب منانے اور والدین کو چکما دینے کے خاص عملیات تجویز کیے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں اور مخلوط تعلیم کے پیش نظر کچھ اضافی عملیات بھی شامل کیے جائیں۔ خاص طور پر رقیب سے جان چھڑانے یا اُسے زیر کر کے محبوبہ کا بھائی جان بنانے کے عملیات بہت اہم ہیں۔
باقی مسائل جیسے شوہر کو راہ راست پر لانا، بیوی کی زبان بندی، گھریلو ناچاقی، کاروباری بندش، امیر گھروں میں رشتہ کروانے یا دوسری شادی میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے تعویذات و عملیات بی ۔اے اور ایم۔اے کے نصاب کے طور پر سفارش کیے گئے ہیں۔ کیونکہ اس دور میں اکثر طلبہ شادی زدہ ہو جاتے ہیں۔ جو نہیں ہوتے وہ شکل سے ایسے ضرور لگتے ہیں۔ اگر وہ خود ان مسائل سے دوچار نہیں تو دوسرے دوچار طلبا کو مبتلا کر کے خوب روزی روٹی کماسکتے ہیں۔
چونکہ ہم Pragmatism کے قائل ہیں۔اسی لیے ہر شعبے میں عملی کام کو اہمیت دیتے ہیں چنانچہ ہم نے جن قابو کرنے کے پریکٹیکلز کی ایک نوٹ بک تیار کی ہے۔ اس کے پندرہ نمبر ہیں۔ فی جن ایک نمبر کے حساب سے آٹھ جن قابو کرنا ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے ورنہ وہ ااس مضمون میں فیل تصور ہوگا۔
طلبہ کو ایم ۔اے روحانیات اور عملیات کروانے کے لیے محکمہ تعلیم کو عامل پروفیسر اور روحانی بابے بکثرت مل سکتے ہیں۔ بس ڈاٹسن لے کر شہر کا چکر لگائیں اور فٹ پاتھ صاف کر کے بھر لائیں ۔ کمیشن کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔
اُردو ہے جس کا نام وہ صرف داغ دہلوی کے زمانے میں ہی قابل فخر سمجھی جا سکتی تھی۔ کیونکہ انگریز کی چال اور انگریزی کا چلن اتنا عام نہ تھا۔ لہٰذا اب اس زبان کو بطور مضمون پڑھانا بند کر دیا جائے۔ اگر مجبوراََ پڑھانی پڑے تو اسے انگریزی ،پنجابی، بلوچی ، پشتو یا سندھی میں پڑھایا جائے۔
اُردو چونکہ پاکستان کے کسی علاقے کی زبان نہیں پھر ملک کا پڑھا لکھا طبقہ اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتا ہے اس لیے ذریعہ تعلیم انگریزی رکھا جائے ۔ جسے انگریزی نہیں آتی اُسے ان پڑھ گنوار لکھا، پڑھا اور سمجھا اور کہا جائے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ آئین میں یہ اجازت موجود ہے کہ اُردو کو انگریزی کی جگہ لینے کا انتظام کرنے تک انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جائے گا یعنی دو تین صدیوں تک انگریزی ہی سرکاری زبان رہے گی۔ لہٰذا اُردو کو ختم کر دیا جائے تو بہترہے۔ ویسے اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ اُردو ترقی کر کے انگریزی بن جائے گی یوں اُردو انگریزی تنازعہ بھی ختم ہو جائے گا۔
تاریخ کا قبلہ بھی درست کیا جائے۔ تاریخ میں ہمیں جو کچھ بھی پڑھا یا گیا ہے۔ وہ زمینی حقائق کی روشنی میں اس کے برعکس نظر آرہا ہے۔ لہٰذا نظریہ پاکستان کو خارج از نصاب کیا جائے جس کے تحت ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تحریک پاکستان اسی لیے چلائی گئی تھی کہ مسلمان انگریزوں اور ہندوﺅں سے نجات حاصل کر کے ایسا ملک چاہتے تھے جس میں اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔
اسی طرح کئی دوسرے تاریخی واقعات و حالات کی توجیح بھی موجود زمانے کے لحاظ سے کی جائے۔عسکریت پسندی کو ویسے بھی بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے بادشاہوں کے جنگوں کے احوال لکھنے کی بجائے اُن کے ”حرموں“ کے شب و روز پر مشتمل سی ڈیز بنا کر دکھائی جائیں تاکہ انٹرنیٹ کیفوں کو جانے والے طلبہ میں تاریخ سے دلچسپی پیدا ہو۔
”جغرافیہ“ درست کر کے پھر پڑھایاجائے۔ ملک کا رقبہ ۱۷۹۱ سے پہلے اور تھا۔ اب بھی کئی راہنما اور تحریکیں اس میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سو زمینی حقائق کی بنا پر جب تک ملک کا جغرافیہ ”حتمی“ نہ ہو جائے کتابوں میں درج ذیل نہ کیا جائے۔
”شہریت“ کے تحت ہمیں پڑھایا گیا ہے ملک میں پارلیمانی نظام ہے ۔ اور پارلیمنٹ ایک خود مختیار ادارہ ہے۔ گو ہم جانتے ہیں کہ عوام کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں کسی قسم کی قانون سازی نہ کرنے میں یہ ادارہ با اختیار ہے مگر خود مختیاری کی صحیح تعریف نہیں بتائی گئی۔ چنانچہ عالمی حالات اور زمین حقائق کی بنا پر ملکی خود مختیاری کی نئی ”تعریف“ جاری کی جائے۔
”سائنس“ بھی کئی تبدیلیوں کی سزاوار ہے۔ ویسے شکر ہے کہ ہمارے ملک کی ”سائنس“ پڑھ کر کوئی بھی عالمی شہرت کا حامل سائنسدان نہیں بن سکتا۔ ہم پہلے ہی ایک بڑے سائنس دان سے بہت تنگ ہیں۔ پھر ہر قسم کی ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات خریدی اور چوری کی جا سکتی ہیں اس لیے اس مضمون میں بڑی تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔
”طب“ کا شعبہ بھی خاص توجہ کا طالب ہے۔ یہاں ڈاکٹر سازی کی فیکٹریاں ایک تو ملکی آبادی کے تناسب سے کم ہیں۔ دوسرا جو ڈاکٹر بنتے ہیں۔ اُنہیں ”قابل“ بنانے کے لیے باہر کی ہوا لگوانی پڑتی ہے۔ اسی لیے ہم حکمت کو شامل نصاب کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم نے جو نصاب ترتیب دیا ہے اس کے مطابق ایم بی بی ایس کے ابتدائی کورس میں قبض کشا گولیاں اور خارش ختم کرنے کا مرہم۔ ٹائیفائڈ دور کرنے کی پھکیاں اور دانت چمکانے کے منجن بنانے کے طریقے شامل ہیں ۔ جبکہ آخری حصے میں کالا یرقان ،خاندانی بواسیر ،مردانہ کمزوری اور بغیر آپریشن گردے کی پتھری سے نجات حاصل کرنے کے نسخہ جات درج ہیں، ایم بی بی ایس کرنے کے بعد مچھندر کو پورا حکیم ہو جانا چاہیے تا کہ ڈگری لیتے ہی وہ دکان کھول کر روزی روٹی کمانے لگے۔
”ریاضی“ تو زمینی حقائق سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کے جمع منفی اور تقسیم کے قاعدے مکمل طور پر تبدیل کیے جائیں۔ کیونکہ کہیں دو جمع دو صرف چار اور کہیں چار کروڑ ہو جاتے ہیں۔ پھر منفی اور تقسیم صرف غریب غربا کے لیے جبکہ جمع اور ضرب سرمایہ داروں کے لیے........
اسی طرح زمین یا کسی باغ باغیچے کا رقبہ معلوم کرنے کی بجائے اُسے ہتھیانے کے فارمولے بتائے جائیںزمینی حقائق (کیا کریں یہ زمینی حقائق بار بار سامنے آجاتے ہیں) کی بنا پر ہم نے نمونے کے طو ر پر چند سوال تیار کیے ہیں۔ پیش خدمت ہیں۔
۱۔ایک سیاستدان ایک گھنٹے میں ایک لاکھ ”ووٹرز“ کو بے وقوف بنا سکتا ہے تو ڈھائی تین سو سیاستدان پانچ سال میں کتنے ووٹرز کو بے وقوف بنا سکتے ہیں۔
۲۔ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندا کرتی ہے ایک دریا کو گندہ کرنے کے لیے کتنی مچھلیاں درکار ہوں گی۔ زمینی حقائق کے مطابق جواب دیں۔
۳۔ ایک بڑے رہنما کے مرنے سے بہت بڑا خلا پیدا ہوتا ہے۔ بتائیے ہمیں خلائی دور میں داخل ہونے کے لیے کتنے رہنماﺅں کو موت سے ہمکنار کرنا پڑے گا۔
۴۔ کالو کے پاس پچاس کلو دودھ ہے ۔بتائیے 150آدمیوں کو دو کلو فی کس کے حساب سے دودھ کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے اُسے کتنا پانی درکار ہوگا۔
۵۔ ایک پروفیسر کی تیس سالہ آمدنی میں کتنی رقم اور ڈالی جائے کہ وہ ایک کرکٹر کی پانچ سالہ آمدنی کے برابر ہوجائے۔ جواب ڈالروں میں دیں۔
۶۔ ایک بندر کو انسان بننے میں کتنا وقت لگتا ہے ، آئینہ دیکھ کر اندازہ لگائیں۔
۷ ۔ ملکی آبادی کا سیٹ کون سا سیٹ ہے۔ متناہی یا لامتناہی۔
میر صاحب فرماتے ہیں۔
لکھتے رقعہ لکھ گئے دفتر
شوق نے آخر بڑھائی بات
ہمارا شوق بھی ہمیں بات بڑھانے کے لیے اکساتا ہے۔ مگر ضمیر سے جان چھڑانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
ہاں اگر حکومت نیا نصاب تعلیم مرتب کرنے کے لیے ہم سے رابطہ کرے تو ہم بھاری معاوضے کے عوض تیار ہو جائیں گے۔

یہ مزاحیہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟