شاہ نواز سواتی کا جہانِ فن: پروفیسر بشیر احمد سوز ،ایبٹ آباد، پاکستان
مانسہرہ کے ایک گائوں ”سفیدہ“ میں 1946ءمیں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مانسہرہ سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ بی اے کے بعد آپ نے حبیب بینک میں ملازمت اختیار کر لی۔ اور ایک طویل عرصہ تک بینک سے وابستہ رہے۔ شاہ نواز سواتی کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے۔ آپ کے چچا محمد افضل مائل ایڈووکیٹ ہزارہ کے ایک معروف شاعر ہیں۔ شاہ نواز سواتی نے گو ادبی دنیا میں دیر سے قدم رکھا مگر خوب رکھا۔ آپ اُردو اور ہندکو زبان میں شعر کہتے ہیں۔ شاہ نواز سواتی کے پاس عمدہ اشعار کا ایک ذخیرہ موجود ہے جو اُن کی روح سے اٹھ کر زبان سے پھل دیتا ہے۔ اور جب اُن کا سامع اُن کے اشعار سنتا ہے تو اُن میں شاہ نواز سواتی کا پورا سراپا جلوہ گر نظر آتا ہے۔ وہ سادہ اور سہل زبان میں شعر کہتے ہیں۔ بعض اوقات تو بڑی بات بھی اُن کے شعر کے قالب میں ڈھل کر اتنی آسان ہو جاتی ہے کہ قاری اُن کی فنکارانہ مہارت کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
نواز اُس بے وفا کو کیا بتائیں
محبت کا کوئی معیار بھی ہے
سہل ممتنع کی ایسی بے شمار مثالیں شاہ نواز سواتی کے کلام میں موجود ہیں۔ شاہ نواز سواتی نے اپنی غزل کے لئے دردمندی کے جواہر ریزے اپنے دیس ہزارہ کی سنگلاخ وادیوں سے بھی حاصل کئے ہیں اور پردیس کی اجنبی فضائوں سے بھی ۔ اس کی غزل معصوم دِل اوربے داغ ذہن کی فنکارانہ دسترس کی مثال پیش کرتی ہیں۔ شاہ نواز نے غزل کے مخصوص پیرائیوں کو خلوص قلب و نظر سے برتا ہے۔ اس کے شعر میں جذبے کی شدت اور حدت اس طرح موجود ہے جس طرح کسی اچھے غزل گو کے پاس ہونی چاہئیے۔ یعنی عشق و محبت کی واردات، مدارات، تشکیلات اس کے ہاں نوک ِ قلم سے یوں ٹپکتی ہےں جیسے شب ہجراں کی ماری آنکھ سے آنسو یا کریدے ہوئے زخم سے قطرہ قطرہ خون۔
اُس کی غزل میں درد و غم بھی ہے اس درد و غم میں رجائیت کی صورتیں بھی موجود ہیں۔ وہ غزل میں شیرینیاں گھولنے کے ہنر سے بھی واقف ہے۔ اور جدت پسند رحجانات سے بھی اپنی غزل کو سنوارنے کے رموزسے بھی کماحقہ آگاہ ہے۔ شاہ نواز سواتی کے اشعار میں معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی پامالی پر گریہ وزاری بھی بدرجہ غائیت موجود ہے۔ وہ ایک سچا، کھرا اور ہمدرد انسان ہے۔ جواپنی سماجی اور تہذیبی قدروں کی دیوار کو ریزہ ریزہ ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔
کیا ہے اس زمانے میں بہت پامال قدروں کو
پسِ دیوار لوگوں نے سربازار لوگوں نے
اک نیا فتنہ بپا ہو جائے گا
پھر کوئی پگڑی اچھالی جائے گی
شاہ نواز سواتی کی پہچان دو حوالوں سے ہوتی ہے۔ ایک تو شعر گوئی ہے اور دوسرا اور اہم حوالہ اُن کی ذات میں متحرک ایک ایسا انسان جو شرافت سے رنگ آمیز، محبت اور دردمندی سے لبریز ہے۔ شعر کی تخلیق میں اُن کی ذات کے وصف جب نمایاں ہونے لگتے ہیں تو اُن کی سادہ سی غزل میں بھی محبتوں کی شدت اور دردمندی کی حدت دکھائی دینے لگتی ہے۔
زندگی بھر خلوص برتا ہے 
زندگی بھر خلوص کو ترسے
شاہ نواز سواتی کی انسان دوستی اور دوسروں کے لئے مضطرب رہنا جا بجا اُن کے اشعار میں جلوہ گر ہوتے ہیں ۔ وہ کسی کے دکھ درد سے بے نیاز نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب وقت کروٹیں لیتا ہے تو بڑے بڑے آسودہ حال خاک بسر ہو جاتے ہیں۔ ایسے مشکل مقامات میں وہ دوسروں کو بھی یہی درس دیتے ہیں کہ کسی کو پریشان حال دیکھ کر آنکھیں نہیں موند لینی چاہئیں۔ کیا خبر کل تم بھی ایسے ہی حالات سے دو چار ہو جائو۔
آگ کل تک مرے پڑوس میں تھی
آج شعلے اٹھے مرے گھر سے
وہ درد مندی کے اس مسلک سے کبھی انحراف نہیں کرتے گو وہ جانتے ہیں کہ جن لوگوں کے لئے وہ بے کل اور بے چین رہتے ہیں وہ انہی کے رویوں کی زد میں رہتے ہیں۔
چار سو ڈھیر پتھروں کے ہیں
درمیاں کانچ کی عمارت ہے
لہو کے گھونٹ پی کر رہ گیا ہوں
مرا مدِ مقابل یار بھی ہے
لیکن اس کے باوجود وہ نہیں چاہتے کہ لوگ منافرت اور باہمی رقابتوں کی آگ میں جلتے رہیں۔ اُن پر جو گزرتی ہے سو گزرے مگر اُن کے گردو پیش میں رہنے والوں کے دلوں میں محبتیں ہی پھلتی پھولتی رہیں۔
آگ کو یوں ہوا نہ دی جائے
ساری بستی جلا نہ دی جائے
شاہ نواز سواتی کے اخلاص کی کوئی حد نہیں ہے مگر اُن کا خاندانی پس منظر اور ذاتی شرافت ان کی حمیت اور خودداری کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ وہ محبت اور پیار کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے مگر اپنی انا اور خودداری کا سودا بھی نہیں کر سکتے۔
سر تسلیم خم کیسے کروں میں
مرے سر پر تو اک دستار بھی ہے
یہ ”دستار“ محض علامتی دستار نہیں جسے شعر میں برتا گیا ہے بلکہ یہ وہ خاندانی وجاہت ہے جو انہیں ورثہ میں ملی ہے اور جس کی پاسداری کے لئے ہمہ دم مستعد اور تیار رہتے ہیں۔
ان کی غزل کا سارا حسن ان چھوٹی بحور میں کہی گئی غزلوں میں در آیا ہے۔ شاہ نواز سواتی غزل کی روایت کو آگے بڑھانے میں بڑے کامران نظر آتے ہیں۔ وہ الفاظ کے گورکھ دھندے تیار کرتے ہیں اور نہ جدت طرازی کے زعم میں اپنے اسلوب بیان کو پیچیدہ کرنے کے قائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی غزل روایت سے ہم آہنگ ہو کر بھی سامع اور قاری کے دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔
کیا ضرورت ہے سر کھپانے کی
دیکھا جائے گا وقت آنے پر
ہم نے رکھے سجا کے گُل دستے
تم نہ آئے غریب خانے پر
مذکورہ اشعار میں غزل کا وہ آہنگ ہے جس پر خوبصورت تراکیب، تشبہیات اور استعارات کو بے دریغ قربان کرنے کو جی چاہتا ہے۔ گویا رنگیں بیانی کے سارے طلسم ان کی سادہ بیانی کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ دوسرے شعر میں غریب خانے کو جس پر کاری اور فنی مہارت کے ساتھ برتا گیا ہے وہ ہر کسی کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے۔ پہلے شعر میں روزمرہ کا استعمال اور روزمرہ کی گفتگو کی وہ کیفیت اور معنویت ہے جس کی مثال بہت کم شعراءکے ہاں ملتی ہے۔
شاہ نواز کے ہاں مضامین کی کمی نہیں۔ اُن کی نگاہ معاشرتی اقدار کی پامالی اور انسانی مسائل پر رہتی ہے۔ اور وہ ان سے نوع نوع کے مفاہیم اور مطالب اخذ کرتے ہیں۔

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟