معید رشیدی ــ’تحریرــ‘کے آئینے میں : عظیم انصاری ۔جگتدل، مغربی بنگال،انڈیا
معید رشیدی ان معدودے چند نوجوانوں میں سے ہیں جنہیں اردو ادب کا مستقبل کہا جاسکتا ہے۔ ان کی تین کتابیں ــ’’ وحشت حیات اور فن، تخلیق و تخئیل اوراستعارہ اور مومن خاں مومن: حیات اور مطالعاتی ترجیحات ‘‘شائع ہوکر دادوتحسین حاصل کرچکی ہیں۔ وہ ملک و بیرونِ ملک یکساں طور پر مقبول ہیں۔ انہیں ۲۰۱۳ ء میں ساہتیہ اکیڈمی نے نوجوان ادیب کی حیثیت سے قومی ایوارڈ سے سرفراز کیاتھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس نوجوان کے اندر تخلیقی صلاحیت بلا کی ہے۔ وہ نہ صرف اچھے نثر نگار یا نا قد ہیں بلکہ ایک تازہ فکر شاعر بھی ہیں۔ آج کل وہ شعبہ ٔ اردو ، علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
معید رشیدی کی کتاب’تحریر‘ تین ذیلی عنوانات ـ’ شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی‘،’ رات بھی نیند بھی کہانی بھی ‘اور’ تمام مسئلے اظہارِحال ہی کے تو ہیں‘ کے تحت انیس مضامین پرمشتمل ہے۔پہلے ذیلی عنوان ’ شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی‘میں گیارہ مضامین ہیں جبکہ ’ رات بھی نیند بھی کہانی بھی‘میں چھ(۶) مضامین ہیں اور ’ تمام مسئلے اظہارِحال ہی کے تو ہیں۔‘ میں دو(۲) مضامین شامل ہیں۔ یہ ذیلی عنوانات ’ تحریر‘ کے مضامین کی انفرادیت کو بہتر طور پر اجاگرکرتے ہیں ۔ ’ تحریر‘  کے بارے میں خود مصنف کا کہنا ہے ۔
’’تحریر ایک نا معلوم سفر ہے ۔ بین السطور کی امواج حوادث میں ڈوبنے اُبھرنے ، جذبات کی آنچ میں جلنے بجھنے اور احساس کے آنگن میں شام کرنے کا تجربہ کم لوگوں کا نصیب ہوتا ہے۔‘‘
          تنقید کے بارے میں بھی مو صوف واضح موقف رکھتے ہیں۔ ملا حظہ کریں:
’’میرے نزدیک تنقید کے معنی وہ نہیں ہیں جو ہمارے عہد کا نقاد بتاتا ہے۔ ہمارا المیہ ہے ، جو لوگ ادب تخلیق کرنا نہیں جانتے ، وہ ادب پر تنقید لکھ رہے ہیں۔ ہم تو حرف کی حرمت اور لفظ کے تقدس پر ایمان رکھتے ہیں۔ گمراہ کن ہوائوں سے لڑنے کا حوصلہ اور صداقت کے امر کنڈ کی تلاش ہمیں جینے کے معا نی دے جاتی ہے۔‘‘
ان ذیلی عنوانات کے علاوہ مصنف کے گزشتہ کتابوں پر اہل نقد و نظر کی آرا شامل ہیں۔
اپنے پہلے مضمون ’’ شاکر ناجی : ادبی تاریخ کا گمشدہ حوالہ ‘‘ میں فاضل مصنف نے بتایا ہے کہ شاکر ناجی سے متعلق سب سے پہلے میر تقی میر نے اپنے تذکرے ’ نکات الشعرا ‘  میں معلومات فراہم کیں۔ ناجی کا وطن شا ہجہان آباد تھا۔ وہ سپاہی تھے ۔ جوانی ہی میں فوت ہوئے۔ آبرو کے ہمعصر تھے۔ ایک بار میر کی اُن سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ ان کی شاعری اور زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے انھوں نے یہ بتایا ہے کہ ’’ ایہام گوئی عہد نا جی کا غالب شعری رجحان تھا اور نا جی کے یہاں ایہام شعوری کوشش کا نتیجہ ہے ۔ غزلیں اسی رنگ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ لفظی کرتب نے تخئیل کو زک پہنچا یا ہے۔ جذبے اور احساس کی زیر یں لہروں کا فقدان ہے ، گہرے داخلی تجربوںکی کمی ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج ان کا کلام جامعات میں بھی خال خال ہی پڑھا جاتا ہے۔ ‘‘
تحریر کا دوسرا مضمون ’ تہذیبی قیادت اور نظیر اکبر آبادی‘ ہے جس میں رشیدی نے کبیر ، میر ، نظیر کو اپنے زمانے کا بڑا شاعر بتاتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ان تینوں میں جو بات مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان کی شاعری نے عام دل کی دھڑکنوں کو چھوا ہے اور یہ کہ زمینی وابستگی کی سطح پر تینوں کی شاعری میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میر اور نظیر معاصر ہیں جبکہ کبیر کا زمانہ مختلف ہے۔ فاضل مصنف کا کہنا ہے کہ ہماری ادبی تاریخ میں میر کو جو مقام نصیب ہوانظیر اس سے محروم رہے لیکن دونوں تہذیبی قیادت کے امین ہیں۔ میر کے اشعار خواص پسند رہے لیکن تاریخ نے نظیر ہی کو عوامی شاعر کی حیثیت سے یاد کیا ہے۔
تیسرا مضمون ’ انیسوی صدی کے شعریاتی حوالے ‘ ہے۔ جس میں فاضل مصنف نے اردو میں شعریات کی اصطلاح ، اس کے مراجع کی تلاش اور اطلاقی صورتوں کا مطالعہ جدید ادبی تنقید کا مرہونِ منت بتایا ہے۔ انیسویں صدی کے اس نظری مباحث کے سلسلے میں رشیدی نے آزاد، حالی اور شبلی کا نام لیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ آزاد ، حالی اور شبلی سے پہلے تخلیقی گرامر کی بیانیاتی تشکیل کی طرف توجہ نہ ہونے کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں؟ خیال کو تخلیقی اور متن کو ادبی معیار عطا کرنے کے وسائل کیاہیں۔ادب اور غیرادب میں فرق کیاہے؟ وغیرہ وغیرہ اس قبیل کے اور بھی سوالات ہیں۔ رشیدی نے آخر میں یہ کہا ہے کہ انیسویں صدی کا شعریاتی منظرنامہ نوآبادیات کے جبرکاآئینہ داراگرنہیں ہے تو مغرب کافیض اور نوآبادیاتی افکار کے محرکات کانتیجہ ضرورہے ۔حالی ، شبلی اورآزاد ، محض تین افراد نہیںہیں بلکہ تین اہم شعریاتی حوالے ہیں۔
چوتھامضمون ’ غالب اور مومن :مفروضات اورحقائق ‘ ہے جس میں معیدرشیدی نے اردوکی ادبی تاریخ کے اس افسوس ناک رویے کا ذکر کیا ہے جس میں غالب اور مومن کو ایک دوسرے کاحریف ٹھہرایا جاتا ہے۔ موازنے اور مقابلے کے بعد ایک کو کمتر اور دوسرے کو برتر ثابت کیا جاتا ہے ۔ یہ مفروضہ غلط ہے ۔ دونوں ہی اچھے شاعر تھے اور دونوں میں رقابت کا کوئی جذبہ نہ تھا۔ غالب نے مومن کی تعریف کی لیکن ناقدین نے اپنے اپنے انداز میں برتر اور کمتر کی مہرلگادی جبکہ دونوں کا مزاج الگ ہے ، شاعرانہ تشخص الگ ہے، محرکات جداہیں اور سخن شناسوں کے لیے دونوں عزیز ہیں۔آخر میں رشیدی نے لکھاہے کہ مومن پر اتنا نہیں لکھا گیا جتنا غالب پر لکھا گیا۔اس لیے مومن  کے کلام کو نئی تنقیدی بصیرتوں اور وسائل کی روشنی میں پڑھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاصر تنقید نے اب تک مومن شناسی کا قرض ادا نہیں کیا ہے۔یہ کام ابھی باقی ہے۔
پانچواں مضمون ’ نئی نسل اور اقبال کا معاملہ‘ ہے۔جس میں معید رشیدی نے یہ بتایا ہے کہ جس وقت ہم احساس کمتری سے مغرب کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ایک آواز ایسی بلند ہوئی جو اہل نظر کے لئے ’بانگ درا‘ ثابت ہوئی کیونکہ اس میںفلسفہ ، مذہب ، نفسیات ، سیاسیات ،اخلاقیات ، غرض سارے علوم ِ فکریہ حل ہوگئے اور اس شاعر کو دنیا نے اقبال کے نام سے جانا۔ بقول رشیدی ’’ اقبال نے اردو نظم کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ ان سے پہلے غزل میں ایسا لہجہ نہیں ملتا۔ایسی بے باکی ، بے نیازی اور قلندری نہیں ملتی۔ اقبال کی پوری شاعری نئی نسل سے مکالمہ قائم کرتی ہے۔ یہ کلام ، اقبال کے زمانے کی نئی نسل کے لئے بھی با معنی تھا اور آج کی نسل کے لئے بھی حرارت ِ جاں ہے۔ ان کے اشعار نئی نسل کے لیے محرک ہیں اور ایک سطح پر اصول بھی۔‘‘
تحریر کا چھٹا مضمون ’ تحریک آزادی، ایک صدی کا المیہ اور ناصر کاظمی ‘ہے جو کافی دلچسپ ہے ۔ فاضل مصنف نے تحریک آزادی کے پس منظر میں اس عہدکی سیاسی سر گرمیوں اور فکری تغیرات کا ذکر کرتے ہوئے پریم چند کے اس قول کو دہرایا ہے۔ جس میں انھوں نے کہاتھا کہ ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا اور یہ حسن کا بدلا ہوا معیار سب سے زیادہ ناصر کاظمی اور فیض کے یہاں محسوس کیا گیا۔ نظم میں تو براہ راست بیانیہ تخاطب سہل ہے لیکن غزل میں معاملہ بالکل الگ ہے۔ غزل کا فن اشاروں کا فن ہے اور اشارہ حضرت انسان کا اولین و سیلۂ اظہار ہے۔ اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ تحریک آزادی کے مشن میں شاعری کی روایت اس قدر مضبوط ثابت ہوئی کہ یہ آج بھی احتجاجی رویے کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ ناصر کاظمی اور ان کے عہد کی شاعری جدو جہد آزادی اور اس کے نتیجے ملی تقسیم کے کرب کی مکمل آئینہ دار ہے۔
دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

شور برپا ہے خانۂ دل میں 
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

چہکتے بولتے شہروں کو کیا ہوا ناصر
کہ دن کو بھی مرے گھر میں وہی اداسی ہے
ساتواں مضمون ’ ہمارے زمانے کی غزلیہ شاعری ‘ ہے جس میں معید رشیدی نے ہمارے زمانے کے غزلیہ شاعری کو تین نسلوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی نسل تو وہ ہے جس نے اپنا کام پورا کر لیا ہے اور ماضی کا حصہ بننے کو تیار ہے۔ دوسری نسل وہ ہے جس نے اسّی کی دہائی میں بال و پر نکالے۔ متا ثر ہوئی اورمتاثر کیا اور تیسری نسل وہ ہے جو ہندو پاک کے شعری منظر نامے پراپنی شناخت قائم کر رہی ہے اور اس نسل میں اک خوشگوار اضافہ ان شعرأ کا ہے جن کا تعلق غیر اردوحلقے سے ہے۔ میں نے تینوں نسل کے متذکرہ شعرا کا نام اس لیے تحریر نہیں کیاکہ خود رشیدی کا ماننا ہے کہ اس عہد کے مختلف نسلوں کے شعرا کی ایک ناتمام فہرست پیش کردی گئی ہے۔ رشیدی نے اس مضمون میں بڑے پتے کی بات یہ کہی ہے کہ نئی نسل کے شعرا میں تازہ کاری ہے اور نئے جہانِ معنی سے الجھنے کا حوصلہ بھی ۔ ہم عصر اردو غزل کا کوئی بھی مطالعہ ان نئی آوازوںکے بغیر نا مکمل رہے گا۔
آٹھواں مضمون ’ علی بن متقی رویا ‘ مرحوم زبیر رضوی سے متعلق ہے جس میں رشیدی نے بہت ہی جذباتی انداز میں اُن سے اپنے تعلق کو اُجاگر کیا ہے اور مرحوم کی ڈھیر ساری خوبیوں سے روشناش کرایا ہے۔ رشیدی کا اندازِ بیان اتنا دلکش ہے کہ قاری اس کی روانی میں بہتا چلا جاتا ہے۔
’’ زبیر صاحب ہمارے عہد کے نمائندہ شاعر ، ادیب ، دانشور ، بروڈ کاسٹر اورمدیر کی حیثیت سے یاد کیے جاتے تھے۔ ان کی حیات اور فن پر لکھنے والوں میں صف اوّل کی شخصیات شامل ہیں۔ ان پر لکھے گئے اہم مضامین ، خاکے اور انٹر ویوز کو ’ متاع سخن ‘  کے نام سے جمع کر کے شائع کر دیاگیا ہے۔ بنیادی طور پر وہ نظموں کے شاعر ہیں۔ ان کی نظم کا ایک کردار علی بن متقی ان کی ذات سے اس قدر پیوست ہو چکا تھا کہ ان کی تعریف مقصود ہوتی تویہی کردارحوالہ بنتا اور تضحیک یا مذاق مقصود ہوتا اسی کردارکو رلایا جاتا۔ آج اُن کے چاہنے والوں کے ساتھ یہ کردار بھی رو رہا ہوگا۔ علی بن متقی رویا!……۔
’تحریر‘ کا نواں مضمون’ تخلیقی عبارت ‘ ہے ۔ اس مضمون میں معید رشیدی نے عتیق اللہ کی شاعری پر کما حقہ بحث کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ہمارے یہاں مفروضہ عام ہے کہ عروضی اچھا شاعر نہیں ہو سکتا ، اچھا شاعر عروضی نہیں ہو سکتا ۔ اچھا نقاد منفرد شاعر نہیں ہو سکتا ‘‘۔رشیدی کا کہنا ہے کہ عتیق اللہ کی شاعری ایسے مفروضات کو رد کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک وہ ناقد اچھے ہیں کچھ لوگ انھیں شاعر کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن معید رشیدی کی نظر میں وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں کیونکہ ان کی شعری معنویت میں نئی زمینوں کی دریافت اور نئے خواب بننے کا جتن نمایاں ہے۔
میری بھی کوئی ذات ہے ، یہ کوئی کائنات ہے 
اپنی حدوں پہ بارہوں ، اپنی حدوں کے درمیاں 

پانی تھا مگر اپنے ہی دریا سے جدا تھا
چڑھتے ہوئے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا

مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے 
بہت دن ہوگئے رویا

خوف اک دیو کی صورت ہے مسلط دن رات
کون سی سمت کہاں بھاگ کے جائے کوئی

رشیدی کے بقول عتیق اللہ نئی غزل کا وہ نام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے اندر کا ناقدان کے اندر کے شاعر کا ہم سفر ہے ، حریف نہیں۔
دسواں مضمون ’ خشک ٹہنی ، زردپتے ‘ ہے جس میں رشیدی نے کلکتہ کے معروف اور قابل صدااحترام شخصیت یوسف تقی کا ذکر کیا ہے جن کی متعد دکتابیں تنقید و تحقیق کے باب میں ، منظر عام پر آکر مقبول ہو چکی ہیں ۔ رشیدی کا کہنا ہے کہ ’’ میں انھیں عرصے تک محقق ہی کی حیثیت سے جانتا تھا لیکن تحقیقی و تنقیدی اختصاص کے ساتھ تخلیقی و فور کا احساس ان کی شاعری پڑھ کر ہوا‘‘۔معید رشیدی کے مطابق یوسف تقی نہ صرف غزلیں خوب کہتے ہیں بلکہ ان کی نظموں میں بھی خارجی محسوسات ، داخلی کرب اور انفرادی تجربے کی آنچ موجود ہے۔یہ نظمیں منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے نہیں لکھی گئی ہیں بلکہ ان میں زندگی کے بنیادی اور عصر حاضر کے سلگتے مسائل کو قلمبند کیا گیا ہے جن میں فکری بانکپن اور لہجے کی انفرادیت ہویدا ہے۔ اس مضمون کا اختتام رشیدی نے یوسف تقی کے اس شعر کے ساتھ کیا ہے:
خشک ٹہنی سا تصور ، زرد پتوں سا خیال
ایک ہی موسم ہے دل کا اتنی برساتوںکے بعد
تحریر کا گیارہواں مضمون ’ آسماں دیکھئے تاحّد نظر میرا ہے‘ معید رشیدی کے دلی جذبات کا آئینہ ہے جس میں انھوں نے پہلے حصیّ میں اپنے رفیق خواجہ جاوید اختر کی یاد میں ان کی اچانک موت کا ذکر کیا ہے اور دوسرے حصّہ میں ان کی غزل گوئی پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رشیدی کا کہنا ہے ’’ مجھے معلوم ہے کہ جانے والے کبھی نہیں آتے ۔ جانے والوں کی یاد آتی ہے۔ اب گزری ہوئی یادیں اپنی قبر بنانے پر آمادہ ہیں لیکن میں ایسا ہونے نہیں دوں گا ۔‘‘دوسرے حصے میں رشیدی نے خواجہ جاوید اختر کی شاعری کا احاطہ ان کی کتاب ’ نیند شرط نہیں ‘ کے حوالے سے کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ’’ خواجہ جاوید اختر کی شاعری اپنے معاصرین میں مختلف ہے۔ روز مرہ کا بے تکلف لہجہ اور چھوٹی بحریں انھیں راس آتی ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ بعض گہری باتیں اتنے سلیقے اور آسانی سے کہہ جاتے ہیں کہ محض الفاظ اور ان کے ارتباط سے پہلی نظر میں فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ شعر بہت آگے نکل گیا ہے۔‘‘ رشیدی نے اس مضمون کو خواجہ جاوید اختر کے اس شعر کے ساتھ ختم کیا ہے
حضور آپ کو لوگ کم جانتے ہیں
مگر آپ کیا ہیں یہ ہم جانتے ہیں
’تحریر‘ کا بارہواں اور ذیلی عنوان ’رات بھی نیند بھی کہانی بھی‘ کا پہلا مضمون ’ منٹو مجازی ‘ ہے اس میں فاضل مصنف نے منٹو کے چند افسانوں کے اقتباسات کے حوالے سے ’ گرچہ یہ سر سری ہیں‘ یہ بتایا ہے کہ منٹو نے علامتی افسانے نہیں لکھے لیکن اس کا ہر افسانہ ایک علامت ہے۔ اس کی حقیقت نگاری سفا ک اور عریاں اسی لیے ہے کہ اس کی بنیاد تخلیقی ہے ۔ اس نے حقیقت کے جوہر کو کھولنے کے ساتھ چھپایا بھی ہے ۔ اس کے اسلوب کا راز دھوپ چھاؤں کی اسی کیفیت میں پوشیدہ ہے اور شاید اسی لیے قاری اس کے متن کی اساس پر سنجیدہ ہے۔
’تحریر‘ کا تیرہواں مضمون’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ ہے جس میں معید رشیدی نے شمس الرحمن فاروقی کا شہرۂ آفاق ناول ’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ پر سیر حاصل بحث کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ’ امرائو جان ادا ‘ اور’ آگ کا دریا‘ کے بعد یہ ناول سب سے زیادہ زیربحث رہا ہے ۔ اس ناول کا ہندی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع ہو کر مقبول ہو چکا ہے بلکہ ۲۰۱۵ کے DSC Prize For South Asian Litratureکے آخری منتخب پانچ ناولوں میں کئی چاند تھے سرِ آسماں بھی تھا لیکن بد قسمتی سے یہ پچاس ہزار امریکی ڈالر پر انعام کی رقم کا حقدار نہ بن سکا لیکن نوبل انعام یا فتہ ترکی مصنف اورہان پاموک نے لکھا ہے:
An erudite , amazing historical novel , elegiac in tone and written with heart felt attention to the details and the rituals of a lost culture.
افسوس یہ نہیں کہ فاروقی اس انعام سے محروم رہ گئے بلکہ افسوس اس لیے ہے کہ اردو کے سر یہ تاج نہیں آیا۔ جہاں ملکی اور غیر ملکی سطح پر اس ناول کی پزیرائی کی گئی وہیں کچھ لوگ اِسے ناول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں صرف اس بنا پر کہ تاریخ کو موضوع بنایا گیا بہر حال ٹھوس دلائل کا فقدان ہے ۔ فاضل مصنف کا کہنا ہے کہ جزئیات کے بیان میں ناول نگار کی دوررس نگاہ اور عمیق تاریخی و تہذیبی مطالعے کی داد جتنی دی جائے کم ہے۔
’تحریر‘ کا چودہواں مضمون’ جسے میر کہتے ہیں صاحبو!‘ ہے ۔ یہ حبیب حق کا ناول ہے جس کے بارے میں رشیدی کا کہنا ہے کہ فن پارے کو عمدہ صورت عطا کرنا کسی سادہ ذہن کا کام نہیں ۔ حبیب حق کا ذہن نہایت متنوع ، بالیدہ اور پختہ ہے اور یہ پختگی وسیع مطالعے اور تجربات کی بھٹی میں تپ کر حاصل ہوئی ہے۔ حبیب حق نے اس ناول کے کرداروں کو نہ صرف حقیقت سے جوڑا ہے بلکہ ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔اس میں تاریخی ومذہبی پس منظربھی ہے اورمغربی زندگی کے پہلوؤں کو بھی اجاگرکیاگیا ہے۔ اس میں لسانی مباحثے بھی ہیں اور جذبات نگاری بھی لیکن تخلیقی عمل میں فطری بہاؤ ہے جو مصنف کی عظمت کی دلیل ہے۔ رشیدی نے اس ناول کو’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے ساتھ اس صدی کا اہم ناول کہا ہے۔
تحریر کا پندرہواں مضمون’تعبیر اور کثرت تعبیر ‘ ہے جس میں فاضل مصنف نے معین الدین جینا بڑے کے دس افسانوں کے مجموعے ’ تعبیر‘  کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ کتاب آج سے بارہ برس قبل منظر عام پر آئی تھی لیکن اس کی اتنی پذیرائی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے تھی ۔ اس سلسلے میں رشیدی کا کہنا ہے کہ شاید انھوں نے کسی ہاتھ پر بیعت نہیں کی یا اپنی وابستگی کا اعلان نہیں کیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ معاصر فکشن تنقید میں اُن کا حوالہ آتا ہے۔ جینا بڑے صاحب کے افسانوں کا تجزیہ کر کے رشیدی نے یہ بتایا ہے کہ
’’ معین الدین جینا بڑے کی کہانیوں میں سادگی بھی ہے ،پر کاری بھی لیکن سادگی سے کہیں زیادہ پر کاری کا دخل ہے۔ وہ لفظوں کے مزاج شناس ہیں ۔ ان کی کہانیوں میں خالص ہندوستانی مٹی کی خوشبو ہے جو قاری کی بصیرتوں میں پھیل کر اس کے پورے وجود کو سر شار کر دیتی ہے۔‘‘
تحریر کا سولہواں مضمون ’ چوتھے فن کار کی پرتیما ‘ ہے جس میں معید رشیدی نے کلکتہ کے معروف افسانہ نگار و مترجم شبیر احمد کی کہانی ’ چوتھا فن کار ‘ پربحث کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ اُن کا شاہکارہے اور انھیں کہانی کہنے کا گر آتا ہے لیکن بیان اور بیانیے کا تفاعل ان کے یہاں اتنا سادہ نہیں ، جتنا کہ بادی النظر میں معلوم پڑتا ہے ۔ جملے کی ساخت ، لہجے کی متانت اور طنز کی کاٹ بیانیے کو استحکام عطا کر تی ہے ۔ رشیدی نے چوتھے فنکار کو موضوع ، اسلوب ، تکنیک ، ٹریٹمنٹ اور دیگر فنی لوازمات سے لیس کیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ بتائی ہے کہ مورتی بنانا خود ایک نازک فن ہے۔ اس کے لوازمات ، جزئیات اور فن کار ی کا بیان تخلیق کار کے پختہ شعور ، ٹھوس ؍ پرکار تجربے اور فن کی نزاکتوں سے آگاہی پر دال ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رشیدی کے اس خیال سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ شبیر احمد اپنے ڈھب کے تنہا افسانہ نگار ہیں ، جنھوں نے بہت کم مدت میں اپنا اسلوب وضع کیا ہے۔
’تحریر‘ کاسترہ واں مضمون’ کالے لفظوں کا اجالا ‘ ہے جس میں معید رشیدی نے خورشید اقبال کی افریقی افسانوں کے ترجمے کی کتاب ’ اک شب آوارگی ‘ پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ فکشن کے قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ ہے۔ یہ دلچسپی دو سطحوں پر ہے کیونکہ خورشید اقبال نے محض تراجم پر اکتفا نہیں کیا بلکہ’ خصوصی مطالعہ ‘  کے تحت انھوں نے بر اعظم افریقہ کی تاریخ ، تہذیب اور لسانی ارتقا کے مراحل پر روشنی ڈالی ہے ۔ ادبی ساخت کی تشکیل اور تنوع کے خصا ئص نشان زد کیے ہیں ۔ یہ مطالعہ سر سری نہیں ہے ۔ تحقیق اور غور و خوض کے بعد انھوں نے جو منظر نامہ پیش کیا ہے ، وہ ادبی ، لسانی ، تاریخی ، معا شرتی اور سیاسی حالات کو محیط ہے ۔بڑی بات یہ ہے کہ انھوں نے تر جمے کا عام ڈھب اختیار نہیں کیااور ترجمے میں کہانی کی روح سے سمجھوتا نہیں کیا ۔اس لیے کہ انھیں تخلیق اور ترجمے کا فرق معلوم ہے۔
’تحریر‘ کااٹھارہواں مضمون’معاصرادبی رسائل ؍معیارکے مسائل ‘ ذیلی عنوان ’تمام مسئلے اظہارِحال ہی کے تو ہیں‘سے ماخوذ ہے جس میںمعید رشیدی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ اس موضوع پر اظہارِخیال میں کئی خطرے لاحق ہیں۔ہر شخص کی پسند و ناپسند الگ الگ ہے۔فرد کی پسند کا کوئی آفاقی کلیہ نہیں ہوتا ۔
رشیدی نے بتایا ہے کہ ادبی رسائل کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہے۔آن لائن رسائل کا تصور بھی عام ہوچکا ہے۔کائنات ، شعر وسخن ، دستک وغیرہ سے لوگ مانوس ہوچکے ہیں۔ بعض رسائل پرنٹ ایڈیشن کے ساتھ آن لائن بھی شائع ہونے لگے ہیں۔اردو رسائل کا ماضی شاندار رہا ہے کیونکہ ان رسالوں کے مدیروں کی شخصیت بہت پروقار ہواکرتی تھی لیکن آج کل مدیروں کی کمزورشخصیت سمجھوتوں پر آمادہ ہوجاتی ہے جس سے معیار مجروح ہوتا ہے۔اس سلسلے میں رشیدی نے گوشوں کے چلن کا ذکرکیا ہے۔سرکاری رسائل کے اپنے حدود ہیں ۔ وہ سرکاری پالیسیوں سے انحراف نہیں کر سکتے ہیں۔ اردو اکاڈمیوں کے پرچے کچھ مجبوری، کچھ تنگ نظری کے شکار ہیں۔آبادی بڑھی ہے لیکن آج رسائل کو ریڈرشپ کا مسئلہ درپیش ہے کیونکہ آج کے زمانے میں تفریح کے ذرائع بڑھ گئے ہیں۔
’تحریر‘ کاانیسواں اورآخری مضمون’ممتازحسین اور نظری مسائل اساس تنقید ‘ہے جس میں رشیدی نے یہ بتایا ہے کہ ممتاز حسین نے ترقی پسندوں میں نظریاتی شدت پسندی سے گریز کرتے ہوئے نظری مسائل کی جانب توجہ دی ہے۔انہوں نے ادب کو بیک وقت سماجی مسائل اورجمالیاتی تقاضوں کی اسا س پر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ممتاز حسین کی خوبی یہ ہے کہ جہاں ترقی پسندوں نے شعریات کے مسائل پر توجہ بہت کم دی وہیں انہوں نے شعریات کے مسائل پر قلم اُٹھاکر ترقی پسند تنقید میں اپنی انفرادیت قائم کی ہے۔اس کے علاوہ تفہیم ادب کے عمل میں ممتازحسین کی ترجیح بشردوستی اور ترقی پسند فکر پر ہونے کے باوجود وہ فن کے تقاضوں سے کبھی صرف نظر نہیں کرتے۔ یہی وہ چیزہے جس کے باعث ان کی تنقید کو دوسرے ترقی پسندوں کے مقابلے میںامتیازی حیثیت حاصل ہے۔
مضامین کے خاتمے کے بعد معید رشیدی کی گزشتہ کتابوں پر اہل نقدونظر کی آرا شامل ہیں۔ان کتابوں کا حوالہ میں پہلے ہی دے چکلا ہوں۔
معید رشیدی کی ’تحریر‘ سابقہ کتابوں کی طرح دلچسپ اور معنویت سے بھرپور ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک اچھے ناقد ہیں اور مستقبل میں ان سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ان کے مضامین کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ متن کا بھرپواحاطہ کرتے ہیں۔ ان کے یہاں تازہ کاری اورہوش مندی نمایاں ہے۔وہ تفصیلی محاکمہ کرنے کے بعد ہی اپنی رائے قائم کرتے ہیں اور اپنی دلائل کو بڑی چابکدستی سے پیش کرتے ہیں ۔ وہ بہت حد تک قاری کو اپنا ہم نواں بنا لیتے ہیں ۔تنقید میں اختلاف رائے کی ہمیشہ گنجائش ہے لیکن رشیدی کا اندازِ تخاطب بہت سلیقے کا ہوتا ہے اور اس کے بہائو میں قاری بہتارہتا ہے۔جہاں تک اختلاف رائے کی بات ہے رشیدی خود ہی کہتے ہیں’’ ہر شخص کی پسند وناپسند الگ الگ ہے۔ فرد کی پسند کا کوئی آفاقی کلیہ نہیں ہوتا ۔‘‘ شاید رشیدی یہ کہنا چاہتے ہوں کہ پسندیا ناپسندیدگی کے مسائل ہی ادبی تنقید کو رواں دواں رکھتے ہیں۔

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟