اختر ایمان کی شاعری میں بے ثباتی کا تصور : تمنا شاہین، انڈیا

اخترالایمان کا شمار ایسے شاعروں مےں ہوتا ہے جنھوں نے نظم نگاری کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور نت نئے تجربے کرتے ہوے شاعری کی اس صنف کو استحکام بخشا۔ادبی ہنگامہ آرائیوںکے دور میں بھی انھوں نے نظم سے رشتہ استواررکھتے ہوے اپنے لہجے کی سنجیدگی برقرار رکھی اور غزل کی ہر دل عزیزی کے باوجود اسے لائق اعتنا نہیں سمجھا۔وہ زندگی کے آخری ایام تک نظم نگاری میں ہی اپنی صلاحیت کے جوہر دکھاتے رہے۔یوں تو انھوں نے انسانی زندگی کے مختلف گوشوں پر نظمیں لکھی ہےںلیکن ان میں کہیں نہ کہیں بے ثباتی کا ذکر بھی موجود ہے۔انسان قدیم زمانے سے ہی زندگی نامی سراب پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہا ہے اور اردو ادب کے بھی تقریباًہر شاعر نے زندگی اور اس کی بے ثباتی پراشعار کہے ہیں لیکن سب کا اپنا نقطہ نظر مختلف رہا ہے۔
کسی فن کار کو سمجھنے کے لئے اس کے ماحول اور اس کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات ضروری ہے لہٰذا اخترالایمان کی سوانح پر نظر ڈالتے ہوے ہم ان کی شاعری کے پیچ وخم کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔اخترالایمان کا تعلق ضلع بجنورکے قصبہ نجیب آباد سے تھا جہاں ۲۱ نومبر 1915کو ان کی پیدائش ہوئی۔ابتدائی تعلیم کے بعد وہ دہلی چلے گئے اور’ ذاکر حسین کالج ،دہلی ‘سے بی۔اے۔کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدائی دور میں انھوں نے محکمہ سول سپلائی میں کام کیا ۔کچھ عرصہ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔اس کے بعد ممبئی جاکر فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔وہاںانھوں نے کئی فلموں کے مکالمے لکھے ۔
دراصل ادب اور فلم دونوں سے ان کی گہری وابستگی تھی۔ ادب ان کا شوق تھا اور فلم ذریعہ معاش۔شاید اسی لئے انھوں نے زندگی بھر دونوں میں خوبصورتی سے تال میل قائم رکھا۔ان کے متواتر کئی شعری مجموعے”گرداب“، ”تاریک سیارہ“،”آبجو“،”یادیں“،”بنت لمحات “اور” نیا آہنگ“ کے نام سے منظر عام پر آئے۔بعد میںیہ سارے مجموعے کلیات کی شکل میں ”سرو ساماں “کے نام سے شائع ہوئے۔اس کے بعد 1990 میں ”زمین زمین“کے نام سے ایک شعری مجموعہ اور منظر عام پر آیااور” زمستان سرد مہری کا“1997میں پس ازمرگ شائع ہواجسے سلطان ایمان اور بیدار بخت نے مرتب کیا۔شعری تخلیقات کے علاوہ اخترالایمان نے”اس آباد خرابے میں“کے نام سے اپنی خود نوشت بھی لکھی ہے جو 1996میں منظرعام آئی۔یہ خود نوشت ادبی حلقوں میں کافی پسند کی گئی اور آج بھی اس کی مقبولیت برقرار ہے۔اخترالایمان کی زندگی میں ایسے کئی نشیب وفراز آئے جنہوں نے انھیں ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا۔در اصل انسانی زندگی میں پیش آنے والے حادثات ہی بڑی حد تک خود کو پرکھنے میں انسان کی مدد کرتے ہیں۔اخترالایمان کے ساتھ بھی ایسے واقعات پیش آئے جنھوں نے عارضی طور پر انھیں پریشان کیا لیکن مسائل و مصائب نے انھیں فکری بالیدگی عطا کی۔یہ حقیقت ہے کہ فلمی دنیا سے وابستگی کے بعد ان کے افکارونظرےات میں کچھ مخصوص تبدیلیا رونما ہوئیں لیکن یہ تبدیلیاں ان کی شاعری پر حاوی نہ ہو سکیں بلکہ ان کے تجربات ومشاہدات نے ان کی قوت متخیلہ کو پرواز عطا کی جس کے سبب انھوں نے کائنات کی تمام اشیا کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کےا اور اپنی دور بینی سے نہ صرف انسانی زندگی کے مسائل کا احاطہ کیا بلکہ ان کا حل بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جس میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔اخترالایمان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ان کے شعری مجموعے یادیں پر 1962میںانھیں’ساہتیہ اکادمی ‘انعام دیا گیا۔اس کے علاوہ بہترین مکالمے کے لئے انھیں فلم فیر ایوارڈ بھی ملے۔پہلا فلم فیر اےوارڈ 1963 میں ’فلم دھرم پتر‘اور دوسرا  1966یں فلم ’وقت‘کے لئے دیا گےا۔ان کے علاوہ ’گورنمنٹ آف مدھیہ پردیش ‘کی جانب سے انھیںہندوستان کے اہم اعزاز ’اقبال سمان‘ سے نوازا گیا جو ان کی قدرو منزلت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ان کا انتقال9 مارچ 1966میں ہوا۔ممبئی کے باندرہ قبرستان میں مدفون اخترالایمان اپنی نظموں میں آج بھی زندہ ہیں۔
اخترالایمان خود کو ترقی پسند کہلانا پسند نہیں کرتے تھے ۔ان کا تعلق’ حلقہ ارباب ذوق ‘سے تھا۔انھوں نے کبھی ترقی پسند شاعری کی حمایت نہیں کی ۔وہ زندگی بھر ترقی پسندوں سے نفرت کرتے رہے۔ ادبی ہنگامہ خیزیوں کے باوجود انھوں نے اپنی راہ الگ نکالی ۔انھوں نے نظم کی ہئیت میں کئی کامیاب تجربے کئے اور بعض اتنی مضبوط اور مستحکم نظمیں تخلیق کیں جو ان کے ادبی وقار میں اضافہ ہی نہیں کرتی بلکہ اردو ادب کے دامن کو بھی غیر معمولی طور پر وسعت بخشتی ہیں۔ان کا طرز بیان اور انداز فکر بھی دیگر ترقی پسندوں سے قدرے مختلف ہے۔ان کے ےہاں عصری ابتری اور زوال کے مرثئے کے ساتھ ماضی کی عظمت کے ترانے بھی ملتے ہیں۔انھوں نے ہنگامی موضوعات سے یکسر گریز کیا ہے۔ پھر بھی ان کی شاعری میں کہیں کہیں ترقی پسند خیالات نظر آتے ہیںجس کی وجہ سے آج بھی ان کا شمارترقی پسندوں میں ہوتا ہے۔
اخترالایمان زندگی کے رموز وعلائم سے بخوبی واقف تھے۔ اس لئے انھوں نے زندگی کے خوش گوار اثرات کے ساتھ اس کے تلخ وترش حقائق بھی تسلیم کئے اور اپنی شاعری میں کھل کر ان کا اعتراف کیا لیکن بعض اوقات جذبات کی شدت نے ان کی شاعری کو مجروح بھی کیا ہے۔
اخترالایمان کے سامنے ایک عبوری دور سے گذرنے والامعاشرہ تھاجہاں ہر شخص ایک غیرمعمولی بی چینی کے عالم میں زندگی گزار رہا تھااس دور میں ادبی سمندر میں بھی انقلابی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ ایسے افرا تفری کے ماحول میں انھوں نے جس طرح خود کو گھن گرج ا ور شور شرابے والی شاعری سے محفوظ رکھا ،قابل تعریف ہے۔یوں تو ان کی ابتدائی نظمیں بھی معنویت سے بھر پور ہیں لیکن بدلتے وقت نے ان کی نظموں کو اس قابل بنا دیاکہ وہ ایک عام قاری کو بھی قلبی سکون عطا کر سکتی ہیں۔انھوں نے بعض طویل تمثیلی اور ڈرامائی نظمیں لکھی ہیں اور کرداروں کے آپسی مکالموں کے ذریعہ اپنے جذبات واحساسات کی ترجمانی کی ہے ۔اس سلسلے میں ”سب رنگ“ان کی سب سے طویل نظم ہے جس میں جانوروں کی باہمی گفتگو کے ذریعہ نسل انسانی پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔اخترالایمان نے حضرت آدم کو مختلف انسانوں کا نمائندہ بناکر پیش کیا ہے۔یہ نظم اپنے آپ میں بے مثال ہے۔’ایک کہانی‘ بھی اسی نوع کی نظم ہے اس میں بھی کئی کردار ہیںجن کے آپسی مکالمے جذبہ حب الوطنی کو بیدار کرنے میں معاونت کرتے ہیں ۔ان کے علاوہ’تاریک سیارہ‘اور’جب آنکھ کھلی تو‘وغیرہ بھی اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔لیکن ان سب میں ذکر بے ثباتی بھی مختلف رنگوں میں موجود ہے۔’موت‘ ،’اظہار،‘’محرومی،‘’فیصلہ‘،’شکوہ‘وغیرہ انتہائی خوبصورت نظمیں ہیں جو نئے اسرار سے آگہی عطا کرتے ہوے قلبی سکون بخشتی ہیں۔’شیشے کا آدمی‘،’پکنک‘،’سکون‘،’قبر‘،’ایک لڑکا‘’کوزہ گر‘،’ریت کے محل‘،’کل کی بات‘وغیرہ بھی پُر اثر نظمیں ہیں۔اخترالایمان نے بعض منظوم خاکے بھی لکھے ہیںجن میں میر ناصر حسین کا خاکہ قابل ذکر ہے۔
اخترالایمان کی شاعری کا ایک اہم وصف ان کا نظریہ زندگی ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں زندگی اور اس کی بے ثباتی کوبہتر طور پر برتنے کی کوشش کی ہے۔شور شرابے،تبدیلی اور خود غرضی کے درمیان زندگی کس طرح رنگ بدلتی ہے اپنی نظموں میں اس کی عمدہ تصویر کشی کی ہے۔اخترالایمان کو ہر لمحہ یہ احساس تھا کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں موجود تمام اشیا عروج وزوال سے ہم کنار ہوتی ہیں۔جاندار ہوں یا بے جان سب اپنے اختتام کو پہنچتے ہیں۔ شاید اسی لئے ان کے یہاںفلسفیانہ تجسس نظر آتا ہے۔ان کی شاعری انسانی رنج وغم کی غمازی کے ساتھ اس کی مسرتوں اورشادمانیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ان کے یہاںناامیدی ہے لیکن امید کی ہلکی سی کرن بھی ہے،اندھیروں کے ساتھ اجالے بھی ہیں۔نیکی اور بدی کے علاوہ انسانیت اور حیوانیت کی کش مکش بھی ہے جو کبھی خوشگوار اثر ڈالتی ہے تو کبھی رنجیدہ کرتی ہے ۔بہ الفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے یہاں خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیات نظر آتی ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ درد،کرب،گھٹن اورتنہائی کا احساس زیادہ ہے جو قاری کو بھی ان فضائوں تک لے جاتا ہے۔ان کی اس طرح کی نظموں میں نصیحت کے پہلو بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایک ہی خیال کو مختلف انداز میں پیش کرنے کا مزاج بھی ان کے ےہاں موجودہے۔مثلاً
مٹ ہی جائیں گے یہ کمزور نقوش جم کے بہہ جاتی ہے قطبین پہ برف
زندگی ہائے نہ فردا ہے نہ دوش ! عمر ہو جاتی ہے اک آہ میں صرف! 
(سرو ساماں،نظم:مآل ص۱۳۔۲۳)
گردش عرض مےں گھل جائوں گا کھو جائوں گا جم کے رہ جائے گا امیدوں کی پلکوں پہ لہو
جھک کے رہ جاے گی سنگِ درِجاناں پہ جبیں میرے بوسیدہ لبادے میں رہے گی نہ سکت
  ماہ وسال اورلگا دیں نیا پیوند کہیں
   (سرو ساماں،نظم :نےند سے پہلے،ص۳۲۔۴۲)
ہے مرکزِنگاہ پر چٹان سی کھڑی ہوئی ادھر چٹان سے پرے وسیع تر ہے تیرگی
اسے پھلانگ بھی گیا تو اس طرف خبر نہیں عدم خراب تر ملے،نہ موت ہو نہ زندگی؟
   (سرو ساماں،نظم:نقش پا،ص ۵۲۔۶۲) 
مرقومہ بالا بندوں میں زندگی کی حقیقت اور انسان کی بے بسی کا بیان انوکھے انداز میں کیا گیاہے۔ یہ بند اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا کی رعنائیاں فرضی اور فانی ہیں انسانی وجود کی کوئی حقیقت نہیں۔ نہ چاہتے ہوے بھی اکثر انسان ایسے اعمال پر مجبور ہو جاتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا۔اس کی لاکھ کوششیں بھی اسے موت کے چنگل سے آزاد نہیں کرا سکتیں۔اسے طوےل عمر تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن زوال عمر کازوال لازم ہے۔اس لئے انسان کو نیکی کے راستے پر چلنا چاہئے کیونکہ کسی بھی لمحے سب کچھ تہ وبالاہو سکتا ہے۔
اخترالایمان نے کائنات کے ذرے ذرے میں بے ثباتی کو دیکھااور محسوس کیا ہے۔قدرت کی دلفریبیوں میں بھی آنے والی تباہی کے نشان تلاش کئے۔بہتے جھرنوں،پہاڑوں،ندیوں اور درختوں کی آوازیںسنی ہیںاور ان سے وہ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی ہے جو انسان کو وقتی طور پر خوشی دیتے ہیںلیکن اپنے ساتھ ایک قیامت لے کر آتے ہیں اور پل بھر میں اپنی طاقت دکھا کر دنیا کا نقشہ ہی بدل دیتے ہیں۔نظم ’مسجد‘کا ایک بند ملاحظہ ہو:
تیز ندی کی ہر اک موج تلاطم بر دوش چیخ اٹھتی ہے وہیں دور سے فانی فانی
کل بہا لوں گی تجھے توڑ کے ساحل کی قیود اور پھر گنبد و مینار بھی پانی پانی
    (سروساماں،نظم:مسجد،ص۵۴) 
مندرجہ بالابند مےں معنی و مفاہیم کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔گنبدومینار ایسی علامتیں ہیں جو قاری کو اندر تک جھنجھوڑ دیتی ہیںاور اس کا ذہن اس قیامت خیزی کو نہ صرف محسوس کرتا ہے جو کائنات کا مقدر ہے بلکہ اس کے ذہن کے پردے پر سیلاب کا منظر تازہ ہو جاتا ہے اور ایسا سیلاب جس کے بعد سب کچھ ختم ہو جائے گا۔اخترالایمان کے یہاںزندگی اور موت کی کشمکش کے درمیان حسن وعشق کی فضا بھی نظر آتی ہے۔ان کا عشق ارضی نہیں بلکہ آفاقی ہے۔ ان کے یہاں عشق کا ایساتصور ملتا ہے جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔یہاں بھی انھوں نے روایت سے انحراف کیا ہے اور محبوب کی گود میں دم توڑنے کی خواہش کے بجائے زندگی کی بے ثباتی کا اعتراف یوں کیا ہے:
ہر نفس جس میں ہے پابند غمِ دورِخزاں صبح کی آنکھ میں اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں
قسمتِ حسن ہے رسوائیِ ہر دو عالم کائنات عشق کی آہوں کے سوا کچھ بھی نہیں
   (سرو ساماں،نظم:تارےک سےارہ،ص۳۸۱۔۴۸۱)
وہ تیری گود ہو یا قبر کی تارےکی ہو اب مجھے نیند کی خواہش ہے سو آجاے گی
    (سروساماں،نظم:اعتراف،ص۸۴۱)
نَفَس کا خزاں کے غم کا پابند ہونا،صبح کی آنکھ میں اشکوں کی موجودگی،قبر کی تارےکی سے محبوب کی گود کا موازنہ ایسی علامتیں ہیں جو قاری کو باربار چونکاتی ہےں اور قاری ہر بار ان سے ایک نیا معنی اخذ کرتا ہے۔’نیند کی خواہش‘زندگی کے تمام اسرار سے آگہی کی دلیل ہے۔اخترالایمان نے خواب اور حقیقت کے درمیان چل رہی کشمکش کے ذریعہ زندگی کا اصل روپ پیش کیاہے ۔مثلاً:
ہر نفس خواب ہے،ہر خواب حقیقت کا فریب اک تماشا ہے نگاہوں کا نہ ماضی ہے نہ حال
آج ماضی ہے وہی دور،جو فردا تھا کبھی موت ملتی ہے تمنائوں کے چہرے پہ گلال
    ( سرو ساماں،نظم :تارےک سےارہ،ص۳۸۱۔۴۸۱) 
مجھ سے یوں چھوٹ گیا میرا وہ برسوں کا رفیق گویا مٹی کا کھلونا تھا کہ توڑا،پھینکا!
ہم بھی اس لاش کو بے گوروکفن چھوڑ گئے موت نے زیست کو چپکے سے جھنجھوڑا،پھینکا!
    (سروساماں،نظم:جنگ،ص۵۵۲ ۔۶۵۲) 
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے پل پل میں ہزار بار سنبھلتاہوں اور مرتا ہوں 
    (سرو ساماں،نظم:احساس،ص۴۶۳)   
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں میرا سرمایہ ابھی خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
    (سرو ساماں،نظم:عمر گرےزاں کے نام،ص۱۳۳)
درج بالا اشعار نہ صرف شاعر کے داخلی کرب کی غمازی کرتے ہےں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان موجود لمحہ مختصرمیں نسل انسانی کی اذیت،تڑپ اور محرومی و بے بسی کو بھی پیش کرتے ہیں۔ زندگی کا حسن اور موت کی سختی،ماضی اور حال کی کشمکش ایسے حقائق ہیں جنھیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ان کا سامنا ہر ذی نفس کو کرنا ہے۔ اخترالایمان نے زندگی کوہر رنگ میں دیکھنے کی کوشش کی ہے انھوں نے زندگی کی تمام پیچیدگیوں پر غوروفکر کرتے ہوئے ایک فلسفی کی طرح زندگی نامی گتھی سلجھانے کی کوشش کی ہے جس میں کہیں کامیاب تو کہیں ناکام ہوئے ہیں۔ وہ کبھی زندگی سے عاجز نظر آتے ہیں تو کبھی اس کی آرزو کرتے ہیں ۔کبھی تھک کر انسان کو مٹی کے کھلونے سے تشبیہ دیتے ہیںتو کبھی زندگی کو اپنا قیمتی سرمایہ تسلیم کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ اخترالایمان کی شاعری ایک طرف زندگی کے اسرارسے آگہی عطا کرتی ہے تو دوسری طرف اس سے محبت کا درس بھی دیتی ہے۔ان کے یہاں ذات بھی ہے اور کائنات بھی۔آفاقیت وروحانیت کی آمیزش کے ساتھ فطرت کی تباہ کاریاں بھی ہیں۔ مرور ایام کے مسائل بھی ہیں اورحسن وعشق کی داستانیںبھی ،آنسو ئوں کے درمیان قہقہے بھی ہیںاور شکست وریخت کے ساتھ فتح کا جذبہ بھی۔لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخترالایمان کسی مخصوص نظرئے کے پابندنہیں بلکہ ان کی شاعری ہر خاص وعام کے لئے ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں انھوں نے انتہائی مشکل الفاظ اور تراکیب استعمال کی ہیں جو ایک عام قاری کی سمجھ سے بالا تر ہیں جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی علامتیں بہت کم استعمال ہوئی ہیں۔ان کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوے آل احمد سرور ٹھیک ہی کہتے ہیں:
”اخترالاےمان نے خود بھی زندگی سے آنکھیں چار کی ہیںاور اپنے پڑھنے والوں کو بھی یہ حوصلہ دیا ہے.  ان کے ہاں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اپنے آپ کو دوہرا رہے ہیں۔وہ اور شعرا کی طرح صرف اپنی ذات سے محبت میں گرفتار نہیں۔زندگی کے ہر رنگ سے محبت کرتے ہیںاور سب دل اور نظر والوں کے شاعر ہیں۔“
(بہ حوالہ:اردو دنیا:نومبر ۵۱۰۲۔ص :۴۱)

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟