کتب نما : ندی کا جب کنارہ ڈوبتا ہے ۔ مبصر: عظیم انصاری، جگتدل، انڈیا

کتاب کا نام : ندی کا جب کنارہ ڈوبتا ہے
شاعر : شان بھارتی
صخامت : ۸۲۱ صفحے
قیمت  : ۱۸ روپئے
ناشر : ایم ۔ آر پبلکشنز ‘ نئی دہلی
مبصر         : عظیم انصاری

زیر تبصرہ کتاب شان بھارتی کا تیسرا مجموعہ¿ غزلیات ہے۔ اس سے قبل اُن کے دوشعری مجموعے ” بیسویں صلیب (1980) “ اور آخری صلیب (1990) منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان دو شعری مجموعوں نے اُن کی پہچان بنانے میں کافی مدد کی ہے۔ زیر تبصرہ مجموعوں نے اُن کی پہچان بنانے میں کا فی مدد کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب کلّی طور پر غزلوں کا مجموعہ ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ غزل اردو کی آبرو ہے اور اردو زبان کی مقبولیت میں صنف غزل کو اولیت حاصل ہے مزید شعرا¿ بھی مبارک بادکے مستحق ہیں جنکی وجہ سے دوسری زبان والے بھی اس کے گرویدہ نظر آتے ہیں۔
شان بھارتی اردو دنیا کے لئے نیا نام نہیں ہے بلکہ دنیا کی ہر اردو بستی اِن کے نام سے واقف ہے ۔ زیر تبصرہ شعری مجموعہ چالیس برس کی کڑی ریاضت کا ثمرہ ہے ۔ اس کا ہر شعر قاری کی فکر کو مہمیز کرتا ہے کیونکہ یہ شان بھارتی کی تجرباتی و مشاہداتی زندگی کا مکمل آئینہ ہے۔ وہ اردو کے ان معتبر شعرا¿ میں سے ہیں جنکی آواز اپنی انفرادی لب و لہجے کی وجہ سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ وہ عام لفظیات کو سلیقے سے استعمال کر کے قاری ی/سامع کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں ۔ یہ فنکاری کوئی معمولی بات نہیں ۔ آیئے اس قبیل کے چند اشعار دیکھیں۔
ہم ایسے لوگ کہ بازار کو سمجھ نہ سکے
ضرر رساں تھا جو سودا خرید کر تے رہے
کہاں لے آئی ہے بونوں کی صحبت
ہمارا قد بھی پستہ ہو گیا ہے
بلندیوں سے مسائل نظر نہیں آتے
 میں اس زمین کو اب آسماں رکھتا ہوں
رستے سے بے نیاز ہوں ، منزل سے بے خبر
 احسان مجھ پہ خوب مرے ہمسفر کا ہے
تعلق واقعے کا کچھ نہیں ہوتا حقیقت سے
خبر جو بھی نکلتی ہے وہ اخباری نکلتی ہے
شان بھارتی کی غزلوں میں بلا کی روانی ہے کیونکہ ان میں اسلوب کی شادابی کے ساتھ ساتھ تخئیل کی تازہ کاری بھی ہے اور اپنی شعری بہاﺅ میں وہ نئی شعری فضا قائم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں اور یہی چیز اُن کو اپنے ہمعصروں میں ایک الگ پہچان عطا کرتی ہے۔ ملا حظہ ہو۔
دن میں پوتے اور نواسے ، رات کاغذ اور قلم
نیند کو اس عمر ہی میں خواب ہونا تھا ہوئی
 وہ جیسا ہو ، مگر ہو پیسے والا
 یہی اب مہہ جبینیں سو چتی ہیں
 اُبھر آتا ہے ڈر سیل بلا کا
ندی کا جب کنارا ڈوبتا ہے
وقت آتا ہے تواڑ جاتے ہیں شہپر لے کر
ہم کو آتا نہیں بے موقع سواری کرنا
میرے آنگن میں جو کل رات گرے تھے پتھر
 میرے سر مائے میں کچھ اور اضافہ ٹھہرا

انسان سماجی جاندار ہے ۔ سماج کے بغیراس کا وجود ظاہرنہیں ہے ۔شاعر بھی اسی سماج کا حصّہ ہے اس لئے وہ سماج کے اِرد گرد کے ماحول کو بنظر غائر مطالعہ کرتا ہے اور اپنی تہذیب و معاشرے کی عکاسی اپنی شاعری میں کرتا ہے ۔ اس قبیل کے مندرجہ ذیل اشعار ملا حظہ کریں : ۔
مزید اس کو مقدس بنا دیا ہوتا
 وضو جو گنگا کے پانی سے کر لیا ہوتا
ہم تقاضہ اگر انصاف کا پورا نہ کریں
 اس سے کیا عدل ِجہانگیر بدل سکتا ہے
ہر ایک شخص سے ملتا ہوں اس طرح جھک کر
کہ جیسے شہر کے سب سے دراز قد میں ہوں
کوئی گم کردہ¿ منزل ملے تو
میں اپنا نقش ِ ثانی چاہتا ہوں
عریاں نمائشوں میں ملے اس کو کیا سراغ
 جو بیسویں صدی کی دلہن کا جواب تھا
 شان بھارتی کی شاعری میں جہاں آج کے سلگتے مسائل کا ذکر ہے ۔وہیں انھوں نے غزل کی کلاسیکی روایت کو بر قرار رکھنے کی کامیاب کوششیں بھی کی ہیں۔ ملا حظہ کریں
یہ اور بات کہ اس سے ہے واسطہ دل کا
 جو آگیا تو عجیب حال ہوگیا دل کا
کسی کی جھیل سی آنکھوں کا یہ تقاضہ ہے
کہ اب دار گہر میں یہیں تلاش کروں
دل میرا فقط تیرے نشانے کے لئے ہے
 اور اس کے سوا جو ہے زمانے کے لئے ہے
چلتے چلتے آج ہم کس رہ گذر میں آگئے
وہ ہمارے ساتھ خوابوں کے سفر میں آگئے
اسے میں چاہتا ہوں اب بھی اتنا
کہ سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں
شان بھارتی کی شاعری میں مختلف جہات ہیں لیکن ہر جگہ ان کی شعور کی پختگی مسلّم ہے۔ اُن کے یہاں زندگی کا واضح نظریہ ہے جس کو وہ جا بجا اپنی شاعری میں سلیقے سے پیش کرتے ہیں اور یہی ہنر مند ی ایک پختہ کار شاعر کی پہچان ہے۔
خموشی ہر بلا کو ٹالتی ہے
 ہمیں اب اور کچھ کہنا نہیں ہے
رکھانہیں زمانے سے مرہم کی ہم نے آس
 اپنے لہوسے اپنے سبھی زخم دھو لئے
سفر کے ساتھ شعورِ سفر ضروری ہے
 قدم قدم پہ نیا اک سراب نکلے گا
اسی پہ ختم ہے ہر سلسلہ تجسس کا
کروں میں ترک یہ دنیا کہ دیں تلاش کروں
اس بھروسے پہ نہ رہنا کہ ہے رخ اور طرف
 راستہ اپنا کبھی تیر بدل سکتا ہے۔
فاروق راہب نے شان بھارتی کی شاعری کا محاکمہ کرتے ہوئے لکا ہے کہ ” شان بھارتی نے دھیمے لہجے کی شاعری کی ہے۔انھیں شور یا نعرے بازی بالکل پسند نہیں ‘ ایک عجیب طرح کی خاموشی اس میں مضمر ہوتی ہے۔ جس میں شاعر کا درد ، زمانے کا کرب شامل ہوتا ہے۔ میں فاروق راہب کے اس خیال سے متفق ہوتے ہوئے دلیل کے لئے ان اشعار کو پیش کرنا چاہوں گا۔
ہر سمت بے کسوں کا لہو بہہ رہا ہے کیوں
 اس شہر کا بھی کوئی خدا ہے تو بولئے
خموشی ہر بلا کو ٹالتی ہے
 ہمیں اب اور کچھ کہنا نہیں ہے
میں دوستوں پہ بھی کھلتا نہیں کہ با لآخر 
 دیئے میں نور اُسی تیرگی سے لینا ہے
لگا کہ اب بھی جہاں میں خلوص زندہ ہے
ملا کبھی جو کوئی آشنا سلیقے سے
ہر شخص اپنی ذات میں گم تھا بصد غرور
 دنیا میں دوستی کا گنہگار میں ہی تھا
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چار دہائیوں سے اردو شاعری کی آبیاری کرتے کرتے ان کی شاعری میں بلا کی پختگی آئی ہے اور وہ اپنا انفرادی رنگ کا جلوہ دکھانے میں بہت حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ شان بھارتی کا یہ مجموعہ بھی ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل کرے گا اور انھوں نے جس طرح سے اردو شاعری میں اپنا رنگ بھرا ہے وہ اہل سخن کو اپنی طرف ضرور متوجہ کرے گا۔ میں اپنی بات اُن کے ان اشعار کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ طوفان میں 
 بات چلتی رہے کنارے کی
یہ بھی تقدیر کا کیا طرفہ تماشہ ٹھہرا
میں جہاں قتل ہوا میرا علاقہ ٹھہرا
سیپی ہیں سب کے پاس ، گہر کس کے پاس ہے
 جو میرے پاس ہے ، وہ ہنر کس کے پاس ہے
کسی پہ حرف رکھنا ہو تو پہلے
 کبھی خود اپنا بھی معیارپڑھنا
چمکتی ہے جہاں تلوار ہر دم 
 وہاں جینے کی بیماری بہت ہے


یہ تبصرہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟