غزل : مسرت حسین عازم، آسنسول، انڈیا
حرص و ہوس کی آگ سے نکلا نہیں کوئی
ہم پیکرِ خطا ہیں فرشتہ نہـــیں کـــو ئ

ہــــے آپ کـی نوازشِ پیہم کا کچھ سبب
ورنہ مجھ ایسے شخص پہ مرتا نہیں کوئی

سب ساعتِ خوشی میں میرے ساتھ تھے کھڑے
غم کی گھٹا جو چھائی تو ٹھہرا نہیں کوئی

اک اضطراب پھیلا ہے ہر سو جہان میں
ہوگا سکوں نصیب بھروسہ نہیں کـــوئی

سایہ فگن ہے غم کی فضا اب ہراک طرف
نغمه نشاطِ زیست کا گاتا نہیں کوئی

فاقہ کشی نہ ہوتی عیاں کس طرح جناب
رکھتا بروزِ عید ھے روزہ نہیں کوئی

پرتَو ہی تھے بنےہوئے محراب و در میاں
اب دشتِ بیکراں میں سہارا نہیں کوئی

عازمؔ  رگوں میں بھر لو جو ممکن ہو گرم خون
دنیا ہے رزم گاہ تماشا نہیں کوئی 

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟