غزل : مرغوب فاطمی، گیا، انڈیا
تند ہیں احساس کی چنگاریاں
کون سمجھے گا مری دشواریاں

حوصلے نے آرزو کے تھامے ہاتھ
مسکرا اٹھیں قرابت داریاں

جوہر تخلیق لا محدود ہے
ختم ہیں ساری اجارہ داریاں

دل میں سیدھے جا کے اتری سادگی
ہو گئیں بے کیف ظاہر داریاں

ماضی، مستقبل سے ہم آغوش تھا
حال کے حصے میں تھیں کلکاریاں

پیرہن اخلاق کے ہیں تار تار
فکر نو کی ہیں مگر گل کاریاں

طفل کے کندھے پہ تھا بوڑھے کا ہاتھ
کس پہ آئیں کس کی ذمہ داریاں

دستخط باقی ہیں فرد امن پر
ہیں نئے یلغار کی تیاریاں

کی اثر نے گر نہ دل کی پیروی
سب دھریں رہ جائیں گے فن کاریاں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟