غزل : مصداق اعظمی، اعظم گڑھ، یوپی، انڈیا
صرف زندہ ہوں حوصلہ کیا ہے
تو نے غم کے سوا دیا کیا ہے

وہ ہیں تاریخ، میں ہوں مستقبل
ان سے میرا مقابلہ کیا ہے

میرے بارے میں رائے دو اپنی
یہ نہ پوچھو مجھے ہوا کیا ہے

شق بھی کرتی ہے آسمانوں کو
کیا بتائوں میں بددعا کیا ہے

اس نئے راہ رو کو سمجھائو
راہ زن کیا ہے رہ نما کیا ہے

کچھ تو رہنے دے اب بھرم باقی
بند مٹھی میں مت دکھا کیا ہے

مجھے سے پوچھا ہے میرے بیٹے نے
آج تک آپ نے کیا کیا ہے


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟