غزل : شفیق ساحل، راولپنڈی، پاکستان
ہم لوگ نذرِ کرب و بلا کر دیے گئے
بازو ہمارے تن سے جدا کر دیے گئے

اِک وہ کہ جو پڑے ہیں کھلے آسماں تلے
اِک وہ کہ جن کو گھر بھی بنا کر دیے گئے

کچھ اس طرح بھی لوٹی گئی آبروئے گل
کانٹوں کو اختیار عطا کر دیے گئے

مانگی تھی جن کے شوق میں آنکھوں نے روشنی
منظر وہ ایک پل میں ہوا کر دیے گئے

ظلم و ستم میں دھوم تھی جن کی نگر نگر
منصب انھیں گھروں سے بلا کر دیے گئے

فرعونیت کا راج بھی دنیا میں کب تلک
اِنسان بھی نہ تھے جو خدا کر دیے گئے

کچھ غاصبوں نے ہم کو بھکاری بنا دیا
ہم کو نوالے بھی تو چبا کر دیے گئے

دستِ شقی سے کوئی تو ساحل حساب لے
ماؤں سے کتنے بچے جدا کر دیے گئے


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟