غزل : قیصر ضیا، مدھو پور، انڈیا
کنارے پر ٹھہرتی ہی نہیں پانی میں رہتی ہے
میری کشتی ہمیشہ محو طغیانی میں رہتی ہے

بہت شرمندہ ہوتا ہے مری برسات کا بادل
کوئی ننھی سی بھی گر شاخ عریانی میں رہتی ہے

تری دہلیز کے سجدے جو کرنا بھول جاتا ہوں
تو ہر لمحہ جبیں میری پشیمانی میں رہتی ہے

مری دیوانگی کو بھیڑ سے وحشت سی ہوتی ہے
لہٰذا دورآبادی سے، ویرانی  میں رہتی ہے

ہمیشہ جھانکتی رہتی ہے وہ پردے کے پیچھے سے
محبت بھی جتاتی ہے تو نادانی  میں رہتی ہے

کسی شاہیں سے کیا کم ہے مری کنجشک کم مایہ
گدائی شان سے جو قصر سلطانی  میں رہتی ہے

صبا کی ہم رکابی کا یہی اعزاز ہے قیصرؔ
کہ ہر اک گام پر خوشبو پریشانی  میں رہتی ہے 

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟