غزل : شمشیر حیدر، واہ کینٹ، پاکستان
قریۂ درد میں سامانِ طرب تجھ سے ہے
ایسے عالم میں بھی خوش ہوں تو یہ سب تجھ سے ہے

تجھ سے ناراض نہیں خود سے خفا رہتا ہوں
جو شکایت مجھے خود سے رہی کب تجھ سے ہے

عکس روشن ہے ترا صورتِ مہتاب یہاں
کتنا آباد یہ آئینۂ شب تجھ سے ہے

پیاس ایسی ہے کہ پانی سے جو بجھتی ہی نہیں
جو تعلق مرا دریا سے تھا اب تجھ سے ہے

تجھ سے لفظوں کے پرندوں نے اڑانیں سیکھیں
شعر کہنے کا یہ انداز یہ ڈھب تجھ سے ہے


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟