غزل : میاں محمد اعظم، راولپنڈی، پاکستان


جب تلک باد خاک پانی ہے
تب تلک زیست جاودانی ہے

ایک لمحہ اگر ٹھہر جائے
موت پھر زندگی کو آنی ہے

دل دھڑکتا ہے تب تلک اپنا
جب تلک خون میں روانی ہے

خوف رہتا ہے ناؤ والوں کو
موج دریا نے اک اٹھانی ہے

تازہ غنچوں میں گل ہوئے ہیں مقیم
بے اثر اب کلی پرانی ہے

چاند کی سمت اڑ رہا ہے چکور
جوت کیا ہے جو اب جگانی ہے

کارِ دنیا قویٰ سے ہوں اعظم
کیا کریں جب گئی جوانی ہے


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟