بطور خاص : طاہر گل کی بارہ غزلیں



(۱)
یار اب طعنہ و دُشنام پر آ جاتے ہیں
حرفِ آغاز سے انجام پر آ جاتے ہیں

ہم تو کچھ ایسے بھی مجبورِ زباں بندی ہیں
سارے الزام ترے نام پر آ جاتے ہیں

دِل کی سن لیں گے تو اِس لطف سے بھی جائیں گے
یہ بھی کیا کم ہے کہ وہ بام پر آ جاتے ہیں

خیر کی بات تو خیر اُن سے کوئی ہوتی نہیں
حضرتِ شیخ بس احکام پر آ جاتے ہیں

کون آتا ہے غزل سننے مگر جانِ غزل
چند احباب ترے نام پر آ جاتے ہیں

ایسے لگتا ہے کہ اِس کار گہ ہستی میں
ہم بھی مزدور ہیں اور کام پر آ جاتے ہیں 

(۲)
نام لائوں ترا زبان پہ میں 
کھیل جائوں نہ اپنی جان پہ میں

خواہشوں کا گلا دبائے ہوئے
یونہی رکتا ہوں ہر دکان پہ میں

پھر نمازِ وفا ادا کرنے
آ گیا ہوں تری اذان پہ میں

خود نمائی کی کوئی حد بھی ہے
ہر گھڑی ہے تری زبان پہ میں

اب تو خود بھی زمین پر آ جا
آ نہ پائوں گا آسمان پہ میں

درد بھی جیسے اک مغنی ہے
جھوم جاتا ہوں اس کی تان پہ میں

(۳)
اغیار غلط ہیں نہ مرے یار غلط ہیں
دراصل جو رائج ہیں وہ معیار غلط ہیں

لکھوائی گئی ہے جو وہ تاریخ ہے جھوٹی 
آتے ہیں کہانی میں جو کردار غلط ہیں

ہم لطف کے طالب ہیں ہمیں عدل سے کیا کام
سرکار سے کیوں کر کہیں سرکار غلط ہیں

ہم پر ہے تری چاہ کا الزام تو سچ ہے
باقی ہیں جو تاویلوں کے طومار غلط ہیں

گر اُن کی زباں بولوں تو ہر بات بجا ہے
اپنی جو کہوں کہتے ہیں افکار غلط ہیں

(۴)
کیا کہوں چشمِ یار جانی کی
جھیل ہے جیسے ٹھنڈے پانی کی

آپ آنے میں عار تھی کوئی 
جو خبر غیر کی زبانی کی

آپ کا حسن انتہا ہے مگر
ابتدا ہے مری کہانی کی

چشم عکاسِ حالتِ دِل ہے
دوستی دیکھو آگ پانی کی

شام پیرِ مغاں کے ساتھ کٹی
موسمِ گُل کی قدر دانی کی

ہم کو ورثے میں خار زار ملے
کیا کہیں شہرِ دِل کے بانی کی

دیکھ لو دار تک بھی آ پہنچے
ہم نے جو اپنے جی میں ٹھانی کی

جان دی ہم نے کیا کمال کیا
تازہ اِک رسم ہی پُرانی کی

(۵)
نکہت و رنگ و نور کی باتیں
ساری باتیں حضور کی باتیں

قطرئہ مے شعور تک لایا
میرے سب لاشعور کی باتیں

میں ابھی نیل سی نہیں گزرا
آپ کرتے ہیں طور کی باتیں

مطربا! تان اب مدھر کوئی 
ختم حور و قصور کی باتیں 

طاہرؔ اب چھوڑو کون سنتا ہے
شعر کی اور شعور کی باتیں

(۶)
کچھ نہ کچھ اِس درد کی تفہیم ہونی چاہیے
جب یہ دولت ہے تو پھر تقسیم ہونی چاہیے

کب تلک مجنوں سرِ دشتِ وفا تنہا پھرے
اب تو اس آئین میں ترمیم ہونی چاہیے

جب تمہارے خواب کی تعبیر ممکن ہی نہیں
پھر ہمارے خواب کی تجسیم ہونی چاہیے

حرف کو اب لفظ کے سانچے میں ڈھلنا چاہیے
منتشر افکار کی تنظیم ہونی چاہیے

(۷)
کنارِ آب کہیں میرے انتظار میں ہے
وہ ماہتاب کہیں میرے انتظار میں ہے

بتا رہی ہے یہ ترتیبِ حادثات مجھے
نیا عذاب کہیں میرے انتظار میں ہے

رخِ حیات پہ لکھا ہوا سوال ہوں میں
مرا جواب کہیں میرے انتظار میں ہے

ابھی تو پائوں تلے جلتی ریت ہے لیکن
کوئی سحاب کہیں میرے انتظار میں ہے

چھلکتی آنکھ ذرا دیر تخمِ اشک سنبھال
کہ فصلِ خواب کہیں میرے انتظار میں ہے

جو حرف روشنی ہے تو برائے اذنِ طلوع
اک آفتاب کہیں میرے انتظار میں ہے

وہ انقلاب میں جس کا ہوں منتظر طاہرؔ
وہ انقلاب کہیں میرے انتظار میں ہے

(۸)
یہ خیمہ یہ الائو عارضی ہے
یہاں اپنا پڑائو عارضی ہے

مرے سینے میں اک ناسور ہے اب
میں سمجھا تھا یہ گھائو عارضی ہے

رہے گا شاخ پر تو خار دائم
ترا اے گل سبھائو عارضی ہے

بتاتے ہیں نشاں سوکھی ندی کے
جہاں بھی ہے بہائو عارضی ہے

سمٹ جائے گا یہ تاروں کا جھرمٹ
یہ دوری یہ تنائو عارضی ہے

زمانے کی روش ہے چل چلائو
اگرچہ چل چلائو عارضی ہے

(۹)
شوق سے یار مرے اپنا تو پندار سنبھال
پہلے اس گھر کی جو گرنے کو ہے دیوار سنبھال

تیری قربت کا نشہ ہو کہ غمِ ہستی ہو
میں نے کب تجھ سے کہا مجھ کو مرے یار سنبھال

جان ہی لینی ہے میری تو پس و پیش نہ کر
گر یہی تیرا تقاضا ہے تو تلوار سنبھال

مفتیِ شہر تجھے پیرہنِ درد سے کیا 
تو مری چھوڑ کہ تو خلعت و دستار سنبھال

کوچۂ شوق ہے یہ مصر کا بازار نہیں
یاں تو بس جان لگا درہم و دینار سنبھال

ہم سے عشاق کی تقدیر ہے یہ دشت ِ جنوں
تو شہِ حسن ہے تو حسن کا دربار سنبھال

میرے دشمن مجھے کچھ سوچ کے للکارنا تھا
اب جو للکار چکا ہے تو یہ لے وار سنبھال

طاہرؔ اب چھوڑ بھی دے خود کو اذیت دینا
یہ خطوط اور تصاویر نہ بیکار سنبھال

(۱۰)
چراغ جلنے لگے رات گنگنانے لگی
تم آئے ہو تو ہر اک چیز سر میں آنے لگی

مجھے لگا کہ مرا بخت جاگ اٹھا ہے
وہ اک نگہ جو مجھے بام پر بلانے لگی

تمام رات کے جاگے ہو اب تو سو جائو
نسیمِ صبح مجھے لوریاں سنانے لگی

وہ مجھ کو دیکھ کے تھوڑا جو مسکرا اٹھے
حیات دل میں مرے ولولے جگانے لگی

نوید پائی ہو جس طرح حبس چھٹنے کی
ہوا چلی تو ہر اک شاخ دف بجانے لگی

یہ شام اور یہ گھٹا یہ ہوائے موسمِ گل
ہر ایک چیز مرا ضبط آزمانے لگی

مہک اٹھی جو تمہارے خیال کی خوشبو
مشامِ جاں میں مرے حشر سا اٹھانے لگی

تمہارے آنے کی امید میں نے باندھی اِدھر
اُدھر چراغ کی لو کیسے تھرتھرانے لگی

تری نگاہ جو مائل بہ التفات ہوئی
امید بام پہ سو سو دیے جلانے لگی

(۱۱)
ہم تن آسان بھی کچھ ایسے تھے
غم سے ہلکان بھی کچھ ایسے تھے

گائوں کی مٹی سے خمیر بھی تھا
شہر ویران بھی کچھ ایسے تھے

خوف سا تھا مرے رگ و پے میں
کوچے سنسان بھی کچھ ایسے تھے

کج نظر، کج روش رعایا تھی
اور سلطان بھی کچھ ایسے تھے

شہ کو فرصت نہ تھی کنیزوں سے
اور دربان بھی کچھ ایسے تھے

ہوسِ زر ہی کار فرما ہے
ورنہ انسان بھی کچھ ایسے تھے

کچھ تو وہ شام بھی نشیلی تھی
اور مہمان بھی کچھ ایسے تھے

کچھ تو رعبِ جمال بھی تھا اور
میرے اوسان بھی کچھ ایسے تھے

میری حالت پہ یہ تحیر کیوں
تم مری جان بھی کچھ ایسے تھے

دار معراجِ عشق بھی تھی اور
ساز و سامان بھی کچھ ایسے تھے

(۱۲)
بجا ہے وجہِ الم ظلمتوں کا راج بھی ہے
پر اصل مسئلہ یہ منجمد سماج بھی ہے

ہجومِ سنگ بدستاں بھی ٹھیک کہتا ہے
سوائے سنگ جنوں کا کوئی علاج بھی ہے

مرا سخن تو ہے میرے ضمیر کی آواز
یہ میرا درد بھی ہے میرا احتجاج بھی ہے

مرے لہو سے ہے روشن چراغِ مقتل بھی
مرے لہو سے ہی تزئین ِ تخت و تاج بھی ہے

ہمیں بھی اُس سے ہے طاہرؔ امیدِ لطف کہ جو
جفا شعار بھی ہے مستقل مزاج بھی ہے


یہ غزلیں آپ کو کیسی لگیں؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟