کل مونہی : ساجد خاں ۔ حویلیاں، پاکستان
      وہ کافی دیر سے خاموش بیٹھا سوچتا رہا
 میں اس کے چہرے کا مسلسل جائزہ لے رہا تھا آج اُس کے چہرے کی رنگت کچھ بدلی بدلی سی تھی قدرے توقف سے میں نے پوچھا
  صداقت کیا بات ہے.... خیریت تو ہے....آج کچھ خاموش،خاموش سے ہو؟
وہ مجھے غور سے دےکھتے ہوئے کہنے لگا....اِس دنیا میں کوئی کسی کا نہیں....
بس رہنے د و....
کیوں کیا ہوا.... کچھ بتاﺅ تو؟ ....
وہ بات کرنا چاہتا تھا مگر کہاں سے شروع کرے ....اس تذبذب میں مبتلا تھا.... کچھ دیر خاموشی کے بعد پوچھنے لگا
تمہارا عورت کے متعلق کیا خیال ہے؟
       عورت کے متعلق خیال.... میں کچھ سمجھا نہیں....
تمھارا عورت کے متعلق کیانظریہ ہے ؟؟؟
        میں اِس کے سوال کے پس منظر پہ سوچ ہی رہا تھا کہ اُس نے سوال دہراےادےا
عورت کے بارے میں مختلف نظریات ہیں....
کوئی کائنات میں بکھرے رنگوں کا بنیادی جزوعورت کو سمجھتا ہے تو کوئی ان رنگوں میں فساد کی جڑعورت کوکہتا ہے.... کوئی اُسے پھول کہتا ہے تو کوئی کانٹا.... کوئی اُسے پیکرِ حیا بتاتا ہے تو کوئی بے حیائی کا منبع قرار دیتا ہے....کوئی دِلربا تو کوئی دِل شکن....جس کو جس طرح کا تجربہ ہوا وہ اُسی انداز میں اس کی تعریف کرتا ہے....میں بات کر ہی رہا تھا کہ وہ میری بات کاٹتے ہوئے کہنے لگا ....
عورت صرف مطلب پرستی کا دُھوکا دہی کا نام ہے.... جب تک اِس پر منوں مٹی نہ پڑ جائے اِس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا بے وقوفی ہے....
"....ہاہاہاہا....ایسی بات نہیں ہے ....ہاں !.... یہ تمہارا ذاتی تجربہ ہو سکتا ہے ...." میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ غصے میں نظر آنے لگا....
دُنیا میں کوئی کسی کا نہیں سب مطلب کے ہیں....اُس نے جھنجلاہٹ سے کہا ۔
آج تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو ....خیریت تو ہے ....میں نے استفسار کیا۔
یہاں ہر کوئی صرف ز خم دینا جانتا ہے کوئی کسی کے زخموں پہ پھاہا نہیں رکھتا.... اُس کا لہجہ اُسکے غصے کی غمازی کررہاتھا۔
نہیں جی!.... دُنیا میں اچھے برے سب بستے ہیں ۔ اُن لوگوں کی کمی نہیں جوزخموں پہ مرہم لگاتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جوزخم اُدھیڑ کرنمک پاشی کرتے ہیں....وہ بھی ہیں جو اپنا فائدہ چھوڑ کر دوسروں کے کام کرجاتے ہیں ایسے بھی بہت ہیں جو صرف اپنے ہی فائدے پہ نثار رہتے ہیں.... بس.... اچھا رویہ اور مثبت سوچ انسان کو انسانی معراج تک پہنچا دیتی ہے....میری بات کاٹتے ہوئے بے ساختہ کہنے لگا ....
ہاں ....تمہارا پالا جو نہیں پڑا....جب واسطہ پڑے گا توپتہ لگ جائے گا....
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
میں نے بیٹھنے پہ اصرار کیا مگر وہ مضطرب اور بے چین سا تھا....بس ہاتھ ملایا اور چل دیا۔
صداقت جس لڑکی سے محبت کرتا تھا اس کی منگنی ہو رہی تھی اورجلد ہی شادی بھی.... یہ بات اُس کی برداشت سے باہر تھی.... وہ لڑکی کو گھر سے بھاگنے پر مجبور کررہاتھا....وہ ایساکرنے سے اجتناب برت رہی تھی....صداقت کے گھر والے بھی اس رشتہ پہ راضی نہ تھے۔
وہ نائلہ کو بار بار اپنی محبت، چاہت، خلوص،اور سچائی کا یقین دلا رہاتھا.... صداقت کے انہی الفاظ نے اُسے شش و پنج میں مبتلا کر رکھا تھا ....
اُسے والدین کا اعتبار، بہن کا پیار،بھائی کا وقار ختم ہوتا نظر آتا تو وہ خود کوعجیب سی کشمکش میں گھری محسوس کرتی ....اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کونسا راستہ اپنائے.... نائلہ کی منگنی کے ساتھ ہی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں....خرید و فروخت جاری تھی.... کل لڑکے والوں نے انگوٹھی پہنانی تھی....اور شادی کا دِن طے ہونا تھا.... خاندان میں مبار ک بادوں کا سلسلہ جاری تھا.... صداقت نائلہ کو منانے میں جٹا رہا.... نائلہ اُسے کہہ رہی تھی کہ جب آپ کے والدین ہی مجھے قبول کرنے کو راضی نہیں تو پھر بتائیں ہم کیسے اور کہاں رہیں گے؟؟؟....
  صداقت اُسے مختلف دلیلیں دینے کے بعد مسلسل یہی کہے جا رہا تھا کہ شادی کے بعد ویسے بھی اکثر لوگ والدین سے الگ رہتے ہیں ہم بھی اپنا الگ سے گھر بنائیں گے....جہاں ہم اپنی نئی زندگی کی شروعات کریں گے سب ٹھیک ہو جائے گا....وہ تذبذب کا شکار تھی .... ایک اَن دیکھا خوف اُسے گھیرے ہوئے تھا وہ اُسے سمجھانے لگی کہ شادی کے بعد ہمارے لئے مسائل بنیں گے اور والدین کی بھی رسوائی ہو گی....کیا والدین کو رسوا کرکے ہم خوش رہ پائیں گے....وہ لجاجت بھرے لہجے میں نائلہ کی منتیں کرنے لگا .... نائلہ اُسے بھی پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی ....
  وقت قریب سے قریب ترہو رہا تھا.... صبح نائلہ نے کسی کی امانت بن جانا تھا.... والدین کی خوشی دیدنی تھی.... لڑکا کسی پرائیوٹ ادارے میں اچھے عہدے پہ ملازم تھا .... نائلہ کی بہن کا چہرہ خوشی سے کھلا جا رہا تھا اور بھائی بھی مطمئن تھا۔ والدین خاندان والوں کی مبارک بادیں وصول کررہے تھے....سامنے والے کمرے میں تحائف رکھے جا رہے تھے ....دولہے کو دوست مبارک بادیں دے رہے تھے اسکی خوشی بھی دیدنی تھی....لڑکے والے کپڑے اور انگوٹھی لے کر نائلہ کے گھر پہنچے مگر اس سے قبل نائلہ گھر کی دہلیز پار کرکے صداقت کے ساتھ جا چکی تھی....
صداقت کے لجاجت بھرے لہجے اور دِل گرفتگی نے نائلہ کو ہتھیار پھنکنے پہ مجبور کیا....یا شاید جذبات قدم اٹھانے سے پہلے سوچنے سمجھنے کی حس ہی ختم کردیتے ہیں....
دُونوں خاندانوں کے بزرگ، جوان اور بچے اکٹھے تھے جب یہ خبر پہاڑ بن کر اُس کے والدین پر آ ن گری....
والدہ کے آنسو تھم نہیں رہے تھے وہ روہانسی ہوکر کہنے لگی اتنے لاڈ ،پیار سے پالا،پڑھایا لکھایا،اپنی ضرورتیں ترک کر کے بچوں کی خواہشات پوری کیں اِن کی پڑھائی کی خاطرنا دن دیکھا نا رات،اپنا سکون غارت کیا....آج یہ دن بھی دیکھنا تھا....کیا اِس دن کی خاطرپال پوس کے بڑاکیا.... میری بیٹی نے میرے ساتھ کیا کیا....ماں بال نوچ کربین کئے جا رہی تھی اُسے اس کی بہن دَلاسہ دے رہی تھی.... وہ مسلسل کہے جا رہی تھی کہ ہماری تو ناک کٹ گئی.... کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے.... ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنانے والی کاش پید ا ہوتے ہی مر جاتی.... کل مونہی....کم بخت....کم ظرف۔
گھر میں کہرام مچا تھا جیسے صفِ ماتم بچھی ہو.... والد نے خود کو کمرے میں بند کررکھا تھا.... والدہ پہ سکتہ طاری تھا....جب زرا ہوش میں آتی تو بددعائیں دیتی ....
اُس کے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحتیں مفقود ہو چکی تھیں....نائلہ کے والدین کے چہروں سے غم اور شرمندگی کی پرچھائیاں اُڑ رہی تھیں .... آنسو مسلسل بہے جا رہے تھے.... گھرکی آزاد فضا میں گھٹن اور وَحشت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
نائلہ صداقت کی بن چکی تھی.... دونوں کہاں تھے کسی کو کوئی علم نہ تھا.... محلے گلی میں چہ می گوئیاں عروج پہ تھیں....جتنے منہ اُتنی ہی باتیں....کئی زبان کے چٹخارے تو کئی وقت گزاری کی خاطر اُن کو موضوع بحث بنا لیتے ....
 والدین کے پاس کسی بھی سوال کا کوئی جواب نا تھا.... والد خاموش اور گہری سوچوں میں گم تھا والدہ دن رات بیٹی کوکوستی.... نائلہ کی چھوٹی بہن شمائلہ سہمی ہوئی تھی.... والدین اُس کی جانب دیکھتے تو اُسے ایسے محسوس ہوتا کہ وہ زمین میں گڑی جا رہی ہے....بھائی اپنے کمرے میں بند تھا۔
نائلہ کی خالہ بہن کو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی حالات اچھے ہوں یا برے ، وقت کبھی نہیں رُکتا ....گہرے سے گہرے زخم بھر ہی جاتے ہیں۔ بس کرو ہروقت بددعائیں نہ دیا کرو....ناسمجھ تھی ورنہ کب ایسا کرتی .... کل کلاں اُسے کچھ ہوگیا تو خود ہی اِس آگ میں جلو گی۔
نائلہ کو گھر سے نکلے سال سے اُوپر ہونے کو تھا.... خبر گردش کر رہی تھی کہ اُس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے.... والدین اس کا نام سننا پسند نہ کرتے تھے۔
شمائلہ کی شادی نائلہ کے منگیتر سے کردی گئی تھی وہ اپنے گھر خوش تھی اللہ نے چاند سا بیٹا اور بیٹی سے نوازا ....شمائلہ والدین سے ہنسی مذاق میں بچپن کی باتیں.... شرارتیں یاد کرتے وقت نائلہ کا ذکرکر ہی جاتی .... جب اس کا ذکر آتا تو خاموشی سی پھیل جاتی.... کوئی اس کا نام لینابھی گوارا نہیں کرتا تھا.... سات سالوں میں نائلہ کی پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں....صداقت بیٹے کا خواہش مند تھا.... پہلے دوچار سال تو محبت کی باتیں رہیں پھر پے دَر پے بچیوں کی پیدائش، صداقت سے والدین ،بہن بھائیوں کا کنی کترانا،صداقت کا رویہ بھی رفتہ رفتہ نائلہ سے بدلنے لگا.... اکثروہ نائلہ کو طعنہ دیتا.... جو اپنے والدین کی نا بن سکی بھلا میری کیابنے گی۔
نائلہ یہ سنتے ہی فق سی ہو جاتی روز روز کے طعنوں نے اُسے بھسم کر کے رکھ دیا تھا.... گول سفید چہرہ زرداورپژ مردہ ہو چکا تھافربہ جسم کمز وراور تھکاوٹ سے چور چور رہنے لگا.... وہ زندگی سے تنگ آچکی تھی خودکشی کے بارے سوچتی پھر بچیوں کا خیال آڑے آجاتا....نائلہ نے نبا ہنےکی حد کردی ورنہ جہاں روز گالیاں بکی جاتی ہوں زرا زرا سی بات پہ تھپڑرسید کئے جاتے ہوں....بات پہ بات ذلیل کیا جاتا ہو وہاں نباہ کرنابہت مشکل ہوتا ہے اُس نے اپنی بچیوں کے اچھے مسقبل کی خاطر گھروں میں کام کرنا شروع کردیاتھا....جب کبھی وہ کسی سہیلی کا تذکرہ کرتی تو صداقت غصے میں آ جاتا....اور فورا کہہ دےتا تمھاری سہیلی بھی کیا دیوار پھاندھ گئی تھی۔
نائلہ اکثر سوچتی کاش وقت واپس لوٹ آئے.... مگر وقت اس کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا.... اب تو صداقت کے تھپڑ اور طعنے روز کا معمول بن چکے تھے.... نائلہ صداقت کی باتیں سن کر اندرہی اندر کُڑھتی رہتی.... شاید والد کی آہ اور والدہ کی بد دعائیں اس کے تعاقب میں تھیں.... اُسے کہیں بھی چین اور سکون میسر نہ تھا.... وہ لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی.... پھر اُسے پتا چلا کہ صداقت نے شادی کرلی اُس شادی میں صداقت کے والدین کی مرضی بھی شامل تھی۔
آج نائلہ تنہا بیٹھی رو رہی تھی۔
نائلہ جب بھی بیٹیوں کےلئے کچھ مانگتی تو اُسے ماسوائے مار کھانے کے کچھ نہ ملتا....کچھ دیر ہنگامہ رہتا، گالیوں اور رونے کی آوازیں بلند ہوتیں، برتن ٹوٹتے پھر دروازہ زور سے بجتا.... ہلکی ہلکی سسکیوں کے بعد اچانک خاموشی سی پھیل جاتی.... وہ اپنے پھپھولے پھوڑنے کے لئے خود کو کوستی،گال پیٹتی ....اس لمحے اس کے چہرے کی کساوٹ سے اُس کے کرب کااندازہ ہوتا.... بیٹیاں بھی روزروز کے اس اذیت ناک رویے سے تنگ آ چکی تھیں ۔
ماں ....ابو آپ کو روز کیوں مارتے ہیں؟ ....چھوٹی بیٹی نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
ماں نے بیٹی کو سینے سے لگالیا ....بیٹی ....میں....میری قسمت....میرا نصیب۔۔۔۔ الفاظ بن نہیں پارہے تھے۔ گھگی بندھ گئی۔ اُسے لگا کوئی اندر سے کلیجہ کھکھوررہا ہے پھر ایک دل سوز چیخ ابھری۔
صداقت زیادہ وقت نئی بیوی کے ساتھ گزارنے لگا تھا....
 نائلہ جائے تو کہاں جائے....اپنا دُکھ کس کوسنائے ....اپنے دَردکس کو بتائے ....
کئے تو کس سے کئے.... اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔
والدین، بہن بھائی اور خاندان والے اُس سے منہ موڑ چکے تھے.... بیٹیاں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکی تھیں.... مگر اُن کا رشتہ مانگنے والا کوئی نہ تھا۔
  گھر کے ماحول اور والدہ کے کردار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر خاندانی شخص کترا رہا تھا۔
نائلہ کی بڑی بےٹی صاعقہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگی آپ اپنے گھر والوں کوہمارے ہاں بھیجیں نا۔
او ہو.... میری جان تم سمجھتی نہیں میں نے امی سے بات کی ہے
           ....تو پھر .... اُنھوں نے کیا کہا صاعقہ بے قراری سے پوچھنے لگی۔
امی تو غصہ ہو رہی تھیں....اُس نے سپاٹ لہجے میں کہا
         پر کیوں؟؟؟....صاعقہ نے کریدتے ہوئے پوچھا۔
بات یہ ہے کہ امی تمھیں تو پسند کر ہی لیتیں پر؟؟
        ....پر کیا؟؟.... صاعقہ نے چلبلاہٹ سے پوچھا ۔
"صاعقہ دیکھو میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم سے شادی بھی کرون گا"
        ....اُس کی آنکھوں میں چمک دکھائی دینے لگی۔
        "ہاں....پر....اگر....تمھاری والدہ نے رشتہ نا مانگا تو؟...."  صا عقہ کسی خیال کے زیر اثرسوچنے لگی ۔
"تو کیا ....ہم پھر بھی شادی کرلیں گے" وہ دُوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے کہنے لگا۔
  کچھ عرصہ بعد وہ صاعقہ کو گھر سے بھاگنے پر مجبور کرنے لگاتھا.... وہ کہہ رہی تھی کہ اپنی امی کوہمارے ہاں بھیجو۔
وہ اُسے اپنی محبت، چاہت، خلوص اور سچائی کا یقین دلانے لگا ....صاعقہ شش و پنج میں مبتلا تھی.... اُسے ماں کی محبت، بہنوں کا پےاراوراُن کے مستقبل کی فکربھی ستانے لگی.... ماں کی اذیت بھری زندگی کا ایک ایک پل اُس کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا.... ماں کی نصیحتیں دامن گیرہونے لگیں۔
مگروہ بھی ہروقت اُس کی آنکھوں کے سامنے جھلملا رہا تھا....ا ُس کے بچھڑجانے کے خیال سے ہی مردنی سی چھا جاتی ۔
اُس کی آنکھوں کی سرخی اوربہتے آنسو.... محبت کے عہد و پیمان .... ساتھ جینے،مرنے کی قسمیں ....نئی زندگی کی شروعات اورخوابوں کی تعبیروہ بھول نہیں پارہی تھی اورمضطرب تھی کہ کیا کرے .... ذہنی کشمکش میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا.... جوانی اندھی ہوتی ہے اور جذبات قدم اٹھانے سے پہلے سوچنے سمجھنے کی حس ختم کردیتے ہیں طے پایا کہ وہ صبح سویرے عدالت میں شادی کر لیں گے....رات گئے وہ انہی خیالات میں اُلجھی رہی پھر نجانے کس لمحے اُس کی آنکھ لگ گئی ۔
صاعقہ کی ماں بددعائیں دے رہی تھی.... اُس کے آنسو تھم نہیں رہے تھے وہ روہانسی ہوکر کہنے لگی اتنے لاڈ ،پیار سے پالا ،جیسے تیسے پڑھایا لکھایا،خود فاقہ کےا اِن کی ضرورتیں پوری کیں اِن کی پڑھائی کی خاطر لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھے،جھاڑو دیئے ....نا دن دیکھا نا رات....اپنا سکون غارت کیا....خاوند سے مار کھائی ....آج یہ دن بھی دیکھنا تھا....کیا سب اِس دِن کی خاطرکیاتھا.... یہ میری بیٹی میرے ساتھ کیا کر گئی ہے وہ مسلسل کہے جا رہی تھی کہ میری صرف ناک ہی نہیں کٹی میری بیٹی میری روح بھی بھسم کرگئی .... کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی.... کاش پیدا ہوتے ہی مر جاتی....
 کل مونہی....کم بخت....کم ظرف!
صاعقہ کی چھوٹی بہنیں سہمی ہوئی سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھ رہی تھیں....جو آج جیتی جاگتی لاش دکھائی دے رہی تھی۔
صبح سوےرے اُسے موبائل پہ ایک میسج ملا۔
سلام ....میں اپنی خوشی کی خاطر اپنے ماں کا اعتباراور بہنوں کا مستقبل کسی طور داﺅ پہ نہیں لگا سکتی ....میرا سب کچھ میری ماں اور بہنیں ہیں۔ اگر آپ کو واقعی مجھ سے محبت ہے تو اپنے والدین کو راضی کریں اورامی کوہمارے ہاں بھیجیں ورنہ مجھے ہمیشہ کےلئے بھول جائیں۔ میں زندگی کی شروعات ابھاگن کے طورنہیں کرنا چاہتی.... خدا حافظ
جب اُس نے میسج والے نمبر پہ فون کیا تو آوازسنائی دی....
آپ کے مطلوبہ نمبر سے ِفی الوقت رابطہ ممکن نہیں برائے مہربانی کچھ دیر بعد رابطہ کریں۔ 

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟