تمام دکھ ہے : منزہ احتشام گوندل، سرگودھا، پاکستان
وہ بونوں کے شہر میں تنہا تھا۔
وہ سارے کے سارے اسکے اردگرد رہا کرتے۔ گھیرا ڈالے اس کے آس پاس، رقص کناں رہتے۔ اس کے بے حد قریب ہونے کی کوشش کرتے ،مگروہ ان کی گرفت میں کہاں آتا تھا۔ وہ بونوں کے شہر میں سب سے بلند قامت آدمی تھا۔ کتنی بڑی اذیت ہے ناں! جب آپ اپنی گردن کے مقابل کسی کی گردن نہ دیکھیں۔ جب آپ کی آنکھیں قائمة الزاویہ پرمقابل آنکھوں سے دوچارنہ ہوں۔ آدمی صحبت نا جنس کا شکار ہوجاتا ہے، جب اسے دیکھنے کےلئے سر کونیچے تک جھکانا پڑے۔
وہ رات دن اس کے آس پاس رہا کرتے۔ اسے پالینے، پہچان لینے، کی جستجو میں سرگرداں رہتے ۔اس آگہی سے بہت دور ،کہ وہ ان کی گرفت سے بہت پرے ہے۔ وہ ان کے ادراک کی حدوں سے بھی اونچا ہے۔ وہ اپنی سی کوشش کرتے رہتے۔ وہ اس کو جتنا اورجہاں تک دیکھتے یامحسوس کرتے اسے اتنا ہی سمجھتے۔ وہ تم نے اندھیرے میں چار اندھوں کے ہاتھوں سے ٹٹول کر ہاتھی کو دیکھنے کی کہاوت توسنی ہے ناں۔
جس نے اس کو جتنا پایا،اس نے اس کو اتنا ہی جانا۔
کیا قوت باصرہ کے بغیرمحض لامسہ اور قوت سامعہ کے ذریعے معرفت مکمل ہوسکتی ہے؟۔
وہ بہت قدآور تھا۔ بونوں کے شہر میں اونچا قد اس کے لیے مصیبت بن گیا تھا ۔وہ اس شہر کو چھوڑ کر کسی ایسی بستی جانا چاہتا تھا، جہاں لوگ اسکی قامت کے ہوں، مگرایسا ہونا کہاں ممکن تھا ۔وہ جس بستی کا بھی رخ کرتا وہیں کے لوگ بونے ہوجاتے۔ ان کے قد گھٹنے لگتے، اور وہ جس بلندی پر ہوتا وہیں رہ جاتا اورایک بار پھر صحبت نا جنس کا شکار ہوجاتا۔
اس کی گردن تک کبھی کوئی پہنچا ہی نہ تھا۔ اورتم توجانتے ہو گردن کے اوپر سر ہوتا ہے۔ جب تک سربہ سر ایک دوسرے کی دید نہ ہو شنید بھی نہیں ہوتی۔ ان میں سے کچھ اسے پاﺅں تک جانتے تھے۔ کچھ گھٹنوں تک ،اور کچھ ناف تک، اورناف تک پہنچنے والوں کی معرفت وہیں مکمل ہوجاتی تھی۔ وہ اسے اس کے ”لنگ“سے تعبیر کرتے۔ اوراس کی عجیب وغریب تاویلات کرتے۔ اس کو طرح طرح کے نام دیتے۔ اپنی اوقات تک اس پر تبصرے کرتے اور کھوکھلی ہنسی ہنستے۔ وہ ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر اس کو دیکھتے، مگران کی بصارتیں پست ہوجاتیں۔ وہ چیخ چیخ کر اپنی آوازوں کے ہتھوڑوں سے اسکی سماعت کو گراں بار کرنے کی کوشش کرتے، مگران کی آوازیں دب جاتیں ۔وہ ان کے سارے تبصروں سے بالا ہی بالا اپنی دھن میں رہتا تھا۔ وہ بصری‘سمعی‘حسی وجدانی ہرسطح پر بلند تھا۔
یہ بلندی اس کےلئے خوشی نہیں اذیت کی باعث تھی۔ آدمی کی سب سے بڑی دشمن اس کی اپنی دانش ہے۔ یہ دانش اس کو اکیلا اورتنہا کردیتی ہے۔ وہ اگر اپنی ذہانت سے توقع کرے کہ وہ اس کو بہت سارے دوست دے گی ،تویہ اس کی سب سے بڑی خطا ہے۔ وہ خود کوبونوں کے برابر کیسے لاتا؟ وہ اپنے پاﺅں، گھٹنے، حتی کہ پوری پوری ٹانگیں کو لہوں سمیت کاٹ دیتا توبھی اس کاسربونوں کے سرکے برابر نہ ہوپاتا۔ اور جب تک سربہ سر دید نہ ہو، شنید بھی نہ ہوتی۔
عمرانیات کے سارے اصول اس کے لیے فنا ہوگئے تھے۔ اس کے ہونٹ اپنے ہم جنسوں کی محبت کےلئے لرزتے۔ اس کی آواز کپکپا جاتی ۔اس کی بصارت اپنے مقابل آنکھیں ڈھونڈتی ،مگرنارسائی آڑے آجاتی۔ نیچے والے اوپر دیکھنے کی اذیت میں مبتلا ہوتے تھے اوروہ نیچے دیکھنے کی اذیت میں مبتلا تھا۔
وہ اتنا ہی بلند کیوں ہوا تھا؟ عمرانیات کا اصول ہے کہ لوگوں کے قدبرابرہوں توابلاغ ہوتا ہے۔ ابلاغ ہوتوترسیل ہوتی ہے۔ ترسیل ہو توزندگی جاری رہتی ہے۔ قداونچ نیچ کا شکار ہوں تومعاشرہ عدم توازن کی نذر ہوجاتا ہے۔
مگراس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ توقدرتی طور پر بلند قامت تھا۔ بونوں کے اوراس کے درمیان ابلاغ نہیں تھا، بلکہ ایک خلا تھا، اس خلا کے اندر تنہائی کی وحشت بھی تھی اورلاتعلقی کی نعمت بھی ۔آدمی کو وحشت توہوتی ہے جب وہ اپنی آنکھوں کے مقابل کسی کی آنکھیں نہ دیکھے۔ بونوں کی بستی میں رہنے والے کو اپنی تنہائی کے ساتھ جینے کی عادت ہوگئی تھی کہ ایک رات ایک عجیب حادثہ ہوا۔
ایک رات جب وہ سویا، توکسی دوسری نیند کے اندر چلا گیا۔ اس کا بدن کسی نرم وملائم سی، نیم سیال نیم گرم ،دلدل کے اندر دھنستا چلا گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ حواس کی دنیا میں نہیں رہا۔ اس نے ہاتھ پاﺅں نہیں مارے۔ قاتل دلدل نے اس کے حواس اور بدن کو مفلوج کردیا تھا، مگر اسے لگا کہ اسے یہ بے بسی مرغوب تھی، اس کے بدن کو مطلوب تھی، اس کے وجدان کا مقصودتھی۔ دلدل نے چاروں اوراس کے بدن کو جکڑلیا۔ جیسے وہ کوئی آکٹوپس ہو۔ یہ اکٹوپس اس تجریدیت کی ضد تھی، وہ تجریدیت جوا سکوبونوں کے شہر میں رہ کر حاصل ہوئی تھی۔ یہ دلدل ثنویت تھی۔،، دوسرا وجود،، جوا س کے پورے بدن کے اردگرد کھال کی طرح لپٹ گیا تھا ۔ہوبہو اس کے اپنے بدن، اپنے قد کے برابر تھا۔ ایسا عین ممکن تھا۔ کیونکہ وہ دلدل کے کفن میں کسی لاش کی طرح پورا آیا ہوا تھا ۔اس انکشاف نے اس کے اندر سروروبحہجت کی ایک لہربھردی۔ اس کی تجریدیت پرکاری ضرب لگانے والی ثنویت ،اس کے بدن اور قامت کے عین مطابق، ایک دوسرا بدن ۔۔۔۔۔،اس خوش کن انکشاف کے بعداس کے حواس نے بحال ہونا شروع کردیا۔ وہ پورے حواس کے ساتھ دوسرے وجود کی مکمل شناخت چاہتا تھا۔ پہلے قوت لامسہ بیدار ہوئی۔ موجودگی کا احساس‘۔۔جسم کی مکمل ساخت کی پہچان، وہ اپنی جلد، انگلیوں کی پوروں‘ہونٹوں کے لمس‘بدن کے ایک ایک پور کے ساتھ اس کو یکجا کرتا رہا، مگرمعرفت نہ ہوسکی۔۔ کیا محض قوت لامسہ کے ساتھ معرنت ممکن ہے ؟
بونوں کی بستی میں رہنے والے شخص کی اذیت دوہری ہوگئی۔( عدم معرفت )وہ ´دوطرفہ عدم معرنت کے شکنجے میں تھا۔ دوسرا وجود جو اس کے بدن پر کھال کی طرح منڈھا ہوا تھا،وہ اس کی معرفت چاہتا تھا مگر نہ ہو سکی....
تواسے اس کی معرفت کیوں نہ ہوسکی؟
مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ اپنی ایک آنکھ بند کرو، دوسری کو پوری طرح کھولو، اب اپنے ہاتھ کی ہتھلی کو اپنی کھلی آنکھ کے اوپر رکھو اور ہاتھ کی لکیروں کو دیکھو۔ بتاﺅ ہاتھ کی ہتھلی میں کچھ نظر آیا؟
کیا نظرآیا؟؟؟
کچھ بھی نہیں ۔ہتھیلی نے بصارت کو بند کردیا تھا۔ نظر کیا آتا....توثابت ہوا کہ زیادہ قربت بھی پہچان کو دھندلا کردیتی ہے۔ بلکہ معرفت کو مٹا دیتی ہے۔ تم کہتے ہو دوئی نہ رہی۔ حالانکہ دوئی ہوتی ہے بس اس کی معرفت نہیں رہتی ۔دوسرا وجود جو دلدل کی طرح اس کے چاروں اورلپٹ گیا تھا وہ اس کی معرفت کیسے کرتا....
قوت لامسہ سے، قوت شامہ سے، قوت ملہمہ سے، محض تین حسوں کے ذریعے معرفت ممکن ہوسکتی ہے کیا؟
قوت باصرہ،قوت سامعہ‘قوت ذائقہ کے بغیر معرفت ممکن ہوسکتی ہے؟؟؟ مگرمکمل نہیں ہوسکتی....
ادھورے حواس کے ساتھ معرفت کا امکان تو ہے تکمیل نہیں۔ تکمیل کےلئے چھ کی چھ حسیں ضروری ہےں۔ اورایک مناسب حد تک بھی نظارے کی تکمیل ایک مناسب دوری کے بغیرممکن نہیں ۔بونوں کے شہر میں رہنے والا تنہا آدمی تجریدیت سے ثنویت کی طرف سفر کرکے دوبارہ تجریدیت کی طرف لوٹا تواپنی ذات کا عارف ہوچکا تھا۔ اورعرفان ذات وہ نشاط ہے، جس کے بعد سارے جھگڑے ختم ہوجاتے ہےں ۔اب دوسرے وجود کی عدم معرفت ،بونوں سے ناہمواری‘عدم ابلاغ، بلندی کی اذیت، پستی کا احساس‘سب ختم ہوگئے تھے۔ سارے دکھ ہی اپنے وجود کی پہچان کے ہےں۔ اورجب وجود کی پہچان ہوجائے تو....
وجود دکھ ہے وجود کی یہ نمود دکھ ہے
حیات دکھ ہے ممات دکھ ہے
یہ ساری موہوم وبے نشان کائنات دکھ ہے
شعور کیا ہے؟اک التزام وجود ہے
اور وجود کا یہ التزام دکھ ہے
یہ ہونا دکھ ہے نہ ہونا دکھ ہے
ثبات دکھ ہے دوام دکھ ہے
میرے عزیز وتمام دکھ ہے۔

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟