افسانچے

بد نما داغ

محمد علی صدیقی، کانکی نارہ، مغربی بنگال، انڈیا

میں روشانہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ اچانک میری نظر ماریہ سحر پر پڑی۔ آج کل وہ یوم خواتین کے موقعے پر نکالے جانے والے عورت مارچ کی وجہ سے شہ سرخیوں میں تھی۔ یوں تو یہ مارچ خواتین کے حقوق کے لئے تھا لیکن اپنے نعروں کی وجہ سے متنازعہ بن گیا تھا۔ کچھ لوگ اسکی حمایت میں بھی تھے لیکن زیادہ تر لوگ اسکی مخالفت کر رہے تھے۔ روشانہ تو اسکی سخت مخالف تھی۔ مجھے یاد ہے ایک بار اس نے مجھ سے طنزیہ لہجے میں کہا تھا
"میرا جسم میری مرضی۔ بھلا بتاؤ۔۔۔۔!! یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ اس طرح وہ عورتوں کو آخر کون سا حق دلانا چاہتی ہے”
میں کیا بتاتی۔ میں خود ان باتوں سے انجان تھی۔ نعرے تو اور بھی تھے لیکن "میرا جسم میری مرضی” پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح معاشرے میں فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ میں نے روشانہ کو ٹہوکا دے کر ماریہ سحر کی طرف اشارہ کیا تو اس نے اس کی طرف دیکھ کر برا سا منھ بنایا اور بولی
"ایسی عورتیں معاشرے پر ایک بد نما داغ ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عورت آخر چاہتی کیا ہے”
اسی اثناء میں بارات آگئی اور ہم نکاح کے لئے تیار ہونے لگے۔ روشانہ میری بہت پیاری سہیلی تھی۔ اس کی شادی جس لڑکے سے ہو رہی تھی وہ اسی شہر کا رہنے والا تھا۔ میں خوش تھی کہ شادی کے بعد بھی اس سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔ لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ دوسرے ہی دن ایک عجیب و غریب صورت حال میں اس سے ملنا پڑے گا۔
صبح مجھے خبر ملی کہ اسے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ میں فورا خیریت دریافت کرنے کے لئے ہسپتال پہنچی تو اس کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئی۔
"یہ تمہیں ہوا کیا ہے؟” میں نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔ اسے دیکھ کر لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو کل دلہن بنی تھی۔ اسکے جسم پر جگہ جگہ خراشوں اور دانتوں کے نمایاں نشان بہت بد نما لگ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی خوبصورت پھول کو کسی وحشی درندے نے مسل کر رکھ دیا ہو۔ وہ بیڈ پر لیٹی خلاء میں گھور رہی تھی۔ اس نے میری بات کا تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن ٹھہرے ہوئے لہجے میں آہستہ سے بولی۔
"میں ماریہ سحر سے ملنا چاہتی ہوں” اس کی آواز میں بلا کی تلخی تھی
"مگر کیوں؟” میں نے حیرت سے پوچھا
اس نے میری طرف دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے چنگاریاں برس رہی تھیں اور غصے کی شدت سے اس کا سینہ کسی دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ اس نے اپنی سانسوں کو قابو میں کیا اور مستحکم لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی
"اس لئے۔۔ کہ میرا جسم۔۔۔۔۔۔ میری مرضی”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close