غزلیں

غزل

ظفر اقبال ظفر (فتح پور، انڈیا)

تمہارے چاروں طرف ہے خلا کا سناٹا
گزر نہ پائوگے کون و مکان اوڑھے ہوئے

زمیں بچھائے ہوئے آسمان اوڑھے ہوئے
میں چل رہا ہوں سفر کی تکان اوڑھے ہوئے

ہمارے قتل کے منصوبے بن رہے ہیں مگر
گھروں میں بیٹھے ہیں ہم سائبان اوڑھے ہوئے

ہر ایک مرحلہ ء & زندگی تمام ہوا
خیال اس کا، اسی کا گمان اوڑھے ہوئے

ہمارا نام و نسب تک نہیں ہے منظر میں
مگر ہیں زندہ بزرگوں سی شان اورحے ہوئے

تمام زندگی ہم حادثوں کے بیچ رہے
بدن پہ تیر سجائے ، کمان اوڑھے ہوئے

کہاں کہاں مری تہذیب کے نشاں ہیں ظفرؔ
زبانیں کتنی ہیں اردو زبان اوڑھے ہوئے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Close