افسانچے

سامان سو برس کا

محمد علی صدیقی (کانکی نارہ، مغربی بنگال، انڈیا)

"میں سچ کہہ رہا ہوں پیٹر۔ تم پوری طرح صحتمند ہو” ڈاکٹر نے پیٹر کو یقین دلاتے ہوئے کہا
لیکن پیٹر تو خلاء میں گھور رہا تھا۔ اسے ڈاکٹر کی آواز کہیں دور سے آتی معلوم ہو رہی تھی۔ اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس سچائی پر ہنسے یا روئے۔ وہ شہر کا ایک کامیاب بزنس مین تھا اور اپنے کام سے خوش تھا۔ مگر ایک دن جب ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ وہ دنیا میں صرف دس مہینوں کا مہمان ہے تو اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ دولت کیا ہو گی جو اس نے اپنی محنت سے کمائی تھی اور سو برس کے لئے کافی تھی۔ لیکن اس نے قسمت کا یہ فیصلے منظور کرلیا۔ اپنا کاروبار بیچا اور ساری دولت سمیٹ کر دنیا کی سیر کو نکل پڑا۔ وہ زندگی کے ان دس مہینوں میں دنیا کی ساری خوشیاں محسوس کر لینا چاہتا تھا۔ لیکن جب وہ دنیا گھوم کر اور اپنی ساری دولت ختم کر کے واپس لوٹا تو قسمت ایک بار پھر اس کا منہ چڑھا رہی تھی۔ ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ اس وقت غلطی سے رپورٹ بدل گئی تھی۔ وہ پوری طرح صحتمند تھا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر اندھیرا چھانے لگا۔ اس اندھیرے میں اسکے کان ایک عجیب سی سرسراہٹ محسوس کر رہے تھے جیسے کوئی اسکے کانوں میں سرگوشی کر رہا ہو ” انسان بھی کتنا خود غرض ہے۔ جب پل کی خبر نہیں ہوتی تو سو برس کے سامان مہیا کر لیتا ہے لیکن …”
اندھیرے نے پوری طرح اسے اپنی آغوش میں جکڑ لیا تھا۔ وہ گرنے ہی والا تھا کہ ڈاکٹر نے اسے سنبھال لیا اور ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close