ماں جی
5 (1)

ساتویں جماعت کا نو ماہی امتحان ہورہا تھا ۔ میں نے ابھی آدھا پرچہ حل کیا ہوگا کہ ماسٹر فاروقی اپنی کرسی اٹھوا کر میرے قریب لے آئے۔مجھے لگا میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے ہیں۔مجھے اس سے الجھن ہونے لگی۔ کوئی لقمے گن رہا ہوتوآپ کھانا کیسے کھاسکتے ہیں۔

یہ خدا یا خدایا
3 (1)

اُس نے اُلجھ کر کتا ب پٹخ دی۔ وہ جو نا ول میں بُری طرح کھو ئی ہو ئی تھی ’’قربت مر گ میں محبت‘‘میں بہتے دریائے سندھ کے گہرے کبھی ٹھہرے پا نیوں ، سر کنڈوں کے ٹاپوئوں دلد لی علا قوں میں تنہا ڈو بتی اس کشتی کے سا تھ خو د بھی بہت دور نکل آئی تھی۔

طالب بہشت
5 (1)

وہ دن ہی کچھ منحوس سا تھا۔ معمول کی طرح سکول میں صبح کی مجلس کا انعقاد ہوا ۔ بچے خوش و خرم، چہچہاتے ہوئے اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے گراونڈ میں جمع ہو ئے۔ ان کے سامنے اساتذہ تھے جو ان کو قطار وں میں کھڑے رہنے کی ہدایت دے رہے تھے۔

سیاہ لباس
4 (1)

میں ایک عمر کے انقلاب کو بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ اور اس بات سے خوفزدہ تھی کہ صحیفہ بڑی ہورہی ہے۔ میں اُن دنوں کو بھولی نہیں تھی جب میں خود صحیفہ جیسی تھی اور میرے فیصلے صرف میرے فیصلے ہوا کرتے تھے۔